30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ ویکون کالمستعیر الجواب نعم کما صرح بذٰلك فی حاشیۃ الاشباہ من الوقف عند قولہ کل من بنی فی ارض غیرہ بامرہ فہو لما لکھا اھ ومسئلۃ العمارۃ کثیرۃ ذکرہا فی الفصول العمادیۃ و الفصولین وغیرہا وعبارۃ المحشی بعد قولہ ویکون کالمستعیر فیکلف قلعہ متی شاء انتہی [1]۔ |
مذکور ہے،ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے محل بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگیا اور گویا باپ سے زمین عاریۃً لینے والا ہوا،الجواب،ہاں۔جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ کے وقف میں اس قول سے ہے جس نے غیر کی زمین میں تعمیر کی تو وہ زمین کے مالك کے اختیار میں ہوگی اھ جبکہ عمارت کا مسئلہ کثیر الوقوع ہے،فصول عمادیہ وفصولین وغیرہما میں مذکور ہے اور ماتن کے قول یکون"کالمستعیر"گویا عاریۃ لینے والا ہوا،کے بعد محشی کی یہ عبارت ہے تو اس بیٹے کو مکان اکھاڑ لینے کا مکلف بنائے گا جب مالك چاہے اھ(ت) |
فتاوٰی علامہ خیر الدین میں ہے:
|
سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا،اجاب ھی للابن حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ واما قول علمائنا اب وابن یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لہما شیئ ثم اجتمع لہما مال یکون کلہ للاب |
ان سے بالغ شادی شدہ وعیال والے بیٹے کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا پنا مستقل کام وکسب ہے جس سے اس نے کثیر مال حاصل کیا(تو وہ خود مالك ہوگا)انہوں نے جواب میں فرمایا، ہاں یہ اموال بیٹے کے ہیں کیونکہ اپنا مستقل کام وکسب ہے لیکن ہمارے علماء کا یہ ارشاد ہے باپ اور بیٹا دونوں ایك صنعت میں مل کام کرتے ہیں اور ابتداء میں ان دونوں کا کوئی مال نہ تھا پھر دونوں مالدار ہوگئے تو تمام مال باپ کا قرارپائے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع