30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عندالضرورت واسطے انجام تعمیر مکان مذکورہ معرفت زید کسی قدر روپیہ قرض لیا گیا کہ محمد نے بعدتعمیر اپنے سرمایہ روزگار سے زید کو دے دیا اب زید چاہتاہے کہ مکان مذکور احمد ومحمد وحامد سب کو تقسیم کردے یہ فعل اس کا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
تعمیر مکان کے لئے زمین دینا ہبہ نہیں،اگر زید نے زمین دیتے وقت کوئی لفظ ایسا جو شرعا مفید ہبہ ہو نہ کہا تو صرف عاریت اور زمین بدستور ملك زید ہے اسے اختیار جسے چاہے تقسیم کردے ہاں عمارت کسی پر تقسیم نہیں ہوسکتی کہ وہ خاص ملك محمد ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاطمہ نے کہ زید کی خالہ ہے ایك باغ زید کو ہبہ کیا اور قابض کرادیا،آیا یہ ہبہ صحیح اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا یانہیں؟ اور فاطمہ اب اسے واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
بر تقدیر وجود سائر شرائط ہبہ اگر فاطمہ نے باغ سے اپنا قبضہ بالکل اٹھالیا اور زید کو قابض کرادیا تو ہبہ صحیح ہے اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا اور فاطمہ کو اس وجہ سے کہ وہ زید کی خالہ ہے رجوع ہبہ سے صحیح نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گورنمنٹ انگریزی نے زید کے دیہات جاگیر ضبط کرکے کچھ روپیہ سالانہ مقرر کردیا کہ بعد انتقال زید حسب فرائض منقسم ہوتا رہا منجملہ اس کے ستاسی روپیہ سالانہ ہندہ پاتی تھی،اس نے اپنے انتقال سے ۲۵ دن پہلے اپنا روزینہ اپنے نواسے کو ہبہ کیاا ور بنام موہوب لہ اس کے منتقل ہوجانے کی درخواست دی،ہندہ کا بھتیجا یعنی اس کے چچا زاد بھائی کا بیٹا کہ اس کے سوا او ر کوئی وارث نہیں،اس روپیہ کا دعوٰی کررہا ہے،آیا اس صورت میں وہ ہبہ صحیح ونافذ اور بھتیجا کا دعوٰی باطل وناجائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع