30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جبرا نہیں لے سکتا،ہدایہ میں ہے:
|
القبض لابدمنہ لثبوت الملك لانہ عقد تبرع وفی الاثبات الملك قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وھو التسلیم فلا یصح ولان القبض تصرف فی ملك الواہب اذ مبلکہ قبل القبض باق [1] اھ قلت ومن ھٰھنا ظہران امتناعہ عن التسلیم عــــــہ لیس فی شیئ من الرجوع فان الرجوع فیہ بعد القبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ۔ |
ہبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لئے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا،دوسری وجہ یہ ہے قبضہ دینے سے قبل واہب کی ملکیت ابھی باقی ہے تو قبضہ سے قبل اس کی ملکیت میں تصرف لازم آئے گا اھ،میں کہتاہوں،یہاں سے واضح ہوگیا کہ واہب کا قبضہ نہ دینا ہبہ سے رجوع نہ کہلائے گا کیونکہ ہبہ میں رجوع قبضہ دینے کے بعد ہوسکتاہے اس سے قبل تو ہبہ تام نہیں ہوا۔(ت)اور اب اگر عمرو بغیر اجازت زید کے خود قبضہ کرلے گا اصلا بکارآمد نہ ہوگا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۶۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں زید وہندہ دونوں حیات،ان کے تین بیٹے:احمد و محمد و حامد۔احمد مختار عام، محمد روزگار پیشہ،حامد نابالغ۔محمد سرمایہ روزگار اپنا معرفت زید وہندہ بالاشتراك صرف کرتارہا زید نے منجملہ اپنی جائداد کے ایك اراضی افتادہ واسطے تعمیر مکان کے محمد کو دے دی اس نے منجملہ اپنے سرمایہ روزگارکے جو اس کے پاس جمع تھا اور اپنی زوجہ اور ماموں سے کچھ روپیہ اور چوب قرض لے کر مکان پختہ تعمیر کرایا او ریوم تعمیر سے آج تك اس پر قابض ہے اور کسی قدر چوب متفرقہ تعمیر ہذا زید منجملہ تین باغات مملوکہ اپنے کے ایك قطعہ باغ ازروئے تقسیم بلالحاظ کم وبیش محمد کو دیں کہ وہ صرف تعمیر ہوئے
|
عــــــہ: فی الاصل بیاض بین لفظ التسلیم ولفظ فی شیئ ولفظ"کان"مرقوم بین فان الرجوع ۱۲ |
یہاں اصل میں لفظ"تسلیم"اور لفظ"فی شیئ"کے درمیان بیاض ہے اور لفظ"فان الرجوع کے درمیان"کان"لکھا ہوا ہے۔ ۱۲۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع