30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے۔ت)
مسئلہ ۶۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد قابل قسمت بشرکت اور تین شخصوں کے روپے سے خرید کرکے بلا تقسیم اپنی زوجہ کے نام لکھا دی اور اس کی زندگی تك وہ جائداد منقسم نہ ہوئی اب بعد وفات اس کی مالك اس جائداد کی فقط زوجہ مذکورہ ہے یا مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر تقسیم ہوجائیگی۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ جائداد مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر منقسم ہوجائے گی اور صرف زوجہ مذکورہ اس کی مالك نہیں ہوسکتی کہ یہ نام لکھا دینا ہبہ جائداد صالح قسمت کا بلا تقسیم صحیح ونافذ نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك ملك دو بیٹوں پر منقسم تھی،ایك پٹی ہندہ اور ایك اس کے پسر زید کی تھی،ہندہ نے زید پسر اور اس کے ایك بیٹا کہ سامنے فوت ہوا تھا دو پوتے اور دو پوتیاں چھوڑ کر انتقال کیا زید نے ہندہ کی بیٹی میں صرف اپنے بھتیجے عمرو کے نام جس کی عمر قریب ۲۳،۲۴ سال کی تھی لکھوادیا مگر اب تك اسے قبضہ نہ دیا،دونوں پٹیاں زید کے قبضہ میں ہیں۔وہ پٹی بھتیجے کو دینا نہیں چاہتا،اس صورت میں ترکہ ہندہ مکان وملك وغیرہ کا مالك کون ہے اور پوتے پوتیوں کو بھی اس میں کچھ حق ہے یانہیں؟ اور عمرو اس نام لکھوادینے سے اس پٹی کا مالك ہوگیا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخر وادائے دیون ونفاذ وصایا کل متروکہ ہندہ کامالك صرف اس کا بیٹا زید ہے اور نام لکھا دینا اگرچہ دلیل تملیك ہے اور یہ تملیك ہبہ ہے مگر ہبہ بے قبضہ کے تمام نہیں ہوتا،نہ بغیر اس کے موہوب لہ کو ملك حاصل ہو ایسی عــــــہ کہ زید نے اپنے بھتیجے کوقبضہ نہ دلادیا وہ پٹی بھی بدستور زید کی ملك ہے عمرو اس سے
عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے شاید قلم ناسخ سے لفظ"ایسی"کے بعد"صورت میں"چھوٹ گیا ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع