30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قصد کیا تو عورت متوفیہ کی ماں مانع ہوئی کہ پہلے میری بیٹی کا مہر دے دو بعد میں نکاح کرو چنانچہ اس شخص نے بروقت نکاح اپنے لڑکے کے نام جائداد لکھ دی یا صرف اقرار ہی کیا اور بیان کیا کہ آئندہ جو کچھ از نقد یا جائداد حاصل کروں گا وہ اس عورت اور اس کی اولاد کاحق ہوگا،اس شخص نے ایك لڑکا اور ایك لڑکی پیدا ہونے کے بعد انتقال کیا اور اس عورت ثانی نے بھی انتقال کیا اب ایك لڑکا پہلی بی بی کا ہے جس کے قبضہ میں کُل جائداد ہے اور ایك لڑکا اور ایك لڑکی دوسری بی بی سے ہیں جن کے پاس کچھ نہیں ہے،یہ اولاد ثانی اس ورثہ سے جو پہلے لڑکے کے تصرفات میں ہے کچھ پاسکتے ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
تمامی ہبہ کے لئے واہب کا موہوب لہ کو شے موہوب پرقبضہ کاملہ دلانا شرط ہے قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائداد یا ۱تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو(یعنی کسی اور شخص کی ملك سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام)اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے،یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملك سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایك چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترك کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے،یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔او رپسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے کل ذٰلك مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اٰخرہا(یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں اگر شخص مذکور نے وہ جائداد اپنے پسر کو تحریری خواہ زبانی ہبہ کردی اور بشرائط ومعانی مذکورہ پسر کو قبضہ کاملہ دلا دیا تو وہ جائداد خاص اس پسر کی ملك ہوگئی دیگر ورثہ کا اس میں استحقاق نہ رہا،اور اگر ہبہ نہ تھا نرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گا،یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا اگر چہ پسر نے بعد موت پدرقبضہ کاملہ کرلیا ہو تو ان صورتوں میں وہ جائداد بدستور ملك پدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسب فرائض اس سے حصہ پائیں گے فان موت الواہب قبل التسلیم یبطل الھبۃ کما فی الدرالمختار [1](کیونکہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے جیسا کہ درمختار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع