30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احکام الصغار للعلامۃ الاستروشنی عن الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملك الشراء للولد وتکون الضعیۃ للولد لانہا تصیر واہبۃ والام تملك ذٰلك ویقع قبضہا عنہ [1]۔ |
کے احکام الصغار میں ذخیرہ اورتجنیس سے منقول ہے عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے زمین خریدی تو یہ خریداری اس عورت کی اپنی ذات کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ملك ہوگی کیونکہ اس نے بیٹے کو ہبہ کردی جبکہ ماں کو یہ اختیار حاصل ہے توماں کا قبضہ بیٹے کے لئے ہوگا(ت) |
اورا گر بالغ تھا تو زید مشتری اور بائع مکان کے باہم عقد بیع وشراء میں جو لفظ زبان پرآئے ان پر نظر کی جائے گی اگر ان میں عمرو کی طرف اضافت عقد تھی مثلا بائع نے کہا یہ مکان میں نے تیرے بیٹے عمرو کے ہاتھ بیچا زید نے کہا میں نے اس کے لئے خریدا یا اس کے جواب میں اتنا ہی کہا کہ میں نے خریدا یا زید نے کہا یہ مکان میں نے اپنے بیٹے عمرو کے لئے خرید کیا،بائع نے کہا میں نے عمرو کے ہاتھ بیچا،یا اسی قدر کہا کہ میں نے بیچا،
|
فان الاضافۃ فی احد الکلامین کافیۃ اذا لم یوجد فی الاخر خلافہا کما صححہ فی وجیز الکردری وحققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار خلافالما فہم العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی وصورۃ الخلاف ان تقع الاضافۃ فی احد الشطرین الی احد وفی الاخر کان قال اشتریت لفلان فقال بعت منك حیث یبطل العقد فی الاصح لانہ خاطب المشتری فردہ لغیرہ فلایکون جوابا فما بقی الابشرط واحد افادہ فی فروق الکرابیسی |
عقد کرنے والے فریقین میں سے ایك کے کلام میں اضافت ہو توکافی ہے بشرطیکہ دوسرے کاکلام اس کے منافی نہ ہو جیسا کہ وجیز کردری میں اس کی تصحیح ہے اور ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کی ہے جبکہ علامہ شامی کا فہم اس کے خلاف ہے حالانکہ خلاف کی صورت یہ ہے کہ ایجاب قبول میں سے ایك میں اضافت ایك کی طرف ہو اور دوسرے میں دوسرے شخص کی طرف اضافت ہو مثلا خریدار کہے میں نے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی تو اس کے جواب میں بائع یوں کہے یہ چیز میں نے تجھے فروخت کی،تو صحیح ترین قول میں یہ عقد باطل ہے کیونکہ بائع نے مشتری کوخطاب کرکے عقد دوسرے کی طرف پھیردیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع