30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
از روئے ہبہ ہے باقی دکان ومکان وغیرہما بدستور سابق تقسیم ہوں گے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۹:از بنارس محلہ کندیگر ٹولہ شفاخانہ مسجد بی بی راجی مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاب ونیز از بنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب ۱۴ رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہے علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اﷲ تعالٰی الی یوم الدین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے تھے،عمرو،بکر، خالد،زید نے عمرو کے نام سے ایك مکان خریدکیا اور قبالہ وغیرہ امور متعلقہ بیع بھی سب اسی کے نام سے کئے،بعد اس کے عمرو اپنے باپ زیدا ور برادران خالد وبکر کی حیات میں قضا کرگیا تو اب عمرو کے بال بچے اس مکان میں سے حصہ پائیں گے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر عمرو اس وقت نابالغ تھا تو ہر طرح وہ مکان ملك عمرو ہوگیا،عمرو کے ورثہ پر حسب فرائض شرعیہ منقسم ہوگا،
|
فانہ ان وجدت اضافۃ العقد الی عمرو وقع الشراء لہ والاب یملکہ فملکہ عمرو ابتداء والا وقع الشراء لزید ثم جعلہ باسم عمرو صار ہبۃ منہ بحکم العرف واستغنت عن القبض لان ہبۃ الاب لولدہ الصغیر تتم بمجرد الایجاب وفی الہندیۃ عن القنیۃ اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واہبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو قال اشتریت ھذالہ صار ملکا لہ [1] اھ ملخصا،وفی |
کیونکہ اگر مکان کی خریداری عمرو کی طر ف منسوب کی گئی تھی تو عمرو کے لئے وہی ہوئی جبکہ باپ اس کارروائی کا مختارہے،تو اس مکان کا عمرو ابتداء مالك بنا ورنہ خریداری باپ زید کی ہوئی پھر اس نے عمرو بیٹے کے نام کی تویہ باپ کی طرف سے عرف کے لحاظ سے ہبہ ہوا اور اس ہبہ میں قبضہ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ نابالغ بیٹے کو ہبہ کردینے سے ہی تام ہوجاتاہے، ہندیہ میں قنیہ سے مروی ہے کسی نے کپڑا خرید کر نابالغ بیٹے کے لئے اسے کاٹ دیا تو وہ واہب بن گیا اور بیٹے کو سونپا گیا اگرچہ ابھی سلا یانہ ہو،اور اگر باپ کہہ دے کہ میں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے خریدا ہے توبیٹا مالك ہوگیا اھ ملخصا۔اور علامہ استروشنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع