30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنہا بکار آمد رہے اس صورت میں وہ مکان ودکان ترکہ زید رہے اور بعد زید اگر اس کا کوئی وارث سوا عمرو کے نہ تھا تو بشرط تقدیم دین ووصیت وہ دونوں صرف عمرو کے ملك ہوئے زوجہ عمرو کا ان میں کچھ حق نہ تھا اب کہ عمرو مرا اگر اس کے وارث سے یہی دو شخص ہیں تو بعدا دائے مہر ودیگر دیون و انفاذ وصایا چار حصے کرکے ایك سہم زوجہ عمرو اور تین سہم ہمشیر زادہ عمرو کو دیں،اور اگر دکان ایسی کوتاہ وتنگ ہے کہ تقسیم کے بعد ہر حصہ جدا قابل انتفاع نہ رہے تومکان کاہبہ تو باطل تھا اس کی حالت تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی مگر دکان کا ہبہ ناجائز نہ ہوا،اب دیکھا جائے گا کہ زید نے اپنی حیات میں زوجہ عمرو کو اس دکان پر قبضہ کرادیا تھا یانہیں،اگر نہیں تو ہبہ پھر باطل ہوگیا۔
|
کما فی الدر المختار ان موت احد المتعاقدین قبل التسلیمات مبطل الہبۃ [1] ملخصا۔ |
جیسا کہ درمختارمیں ہے کہ فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ سے پہلے ہو تو وہ ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔(ملخصا)(ت) |
اور اگر قبضہ کرادیا تھا تو اس نصف دکان کو اندازہ کیا جائے زید کا جس قدر ترکہ بعد ادائے دیون باقی رہا یہ نصف اس کل ترکہ کے ثلث سے زائد تونہیں۔اگر زائد نہیں تو ہبہ نصف بنام زوجہ عمرو صحیح و تام ولازم ہوگیا۔یہ نصف دکان خاص ملك زوجہ ہے اور نصف باقی ومکان ودیگر متروکات کا وہی حال ہے جو اوپر گزرا،اور اگر ثلث سے زائد ہے تو ازانجا کہ عمرو اس تقسیم پر راضی نہ تھا ثلث سے زائد کی مقدار میں ہبہ رد ہوگیا۔
|
فان الھبۃ فی مرض الموت فی حکم الوصیۃ من جہۃ التوقف علی اجازۃ الوارث فیما زاد علی الثلث وان لم تکن وصیۃ فی الحقیقۃ حتی بطلت فی المشاع وعند عدم القبض کما بینہ فی ردالمحتار [2]۔ |
کیونکہ مرض الموت میں تہائی ترکہ سے زائدہبہ کیا تو وہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہونے میں وصیت کے حکم میں ہے اگرچہ حقیقتًا وصیت نہ بھی ہو حتی کہ وہ مشاع ہونے اور قبضہ نہ ہونے پر باطل ہوجاتاہے جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان فرمایا ہے۔(ت) |
اس تقدیر پر صرف بقدر ثلث متروکہ کے جتنا حصہ اس نصف دکان کا ہو وہی ملك زوجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع