30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکام مال ایك کے مال کا مالك دوسرے کو نہیں کرسکتے جبکہ جائداد ترکہ ہندہ والدہ بکر تھی بلاشبہہ زید وبکر بحکم وراثت اس کے مالك ہوئے اور خالد کو کوئی استحقاق ابتدائی نہ ملا کہ بیٹے کے ہوتے پوتے کا کچھ حق نہیں،اب جو حصہ ملك بکر ہوا دوسرا بے اس کے تملیك کے کیونکر اس کا مالك ہوسکتاہے،
|
فی ردالمحتار عن الکرمانی لان ملك الانسان لا ینقل الی الغیر بدون تملیکہ [1]۔ |
ردالمحتار میں کرمانی سے منقول ہے کہ تملیك کئے بغیر کسی کی ملکیت دوسرے کو منتقل نہ ہوگی۔(ت) |
اورتملیك کی یہاں دو ہی صورتیں متصور،یا تو مالك آپ انشاء وایجاب ہبہ کرے یا دوسرا شخص یعنی فضولی اس کی چیز کو ہبہ کرے اور یہ اس تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردے یہاں تك کہ جو کچھ بکر سے صادر ہوا وہ محض سکوت ہے،اور پر ظاہر کہ سکوت خود توکسی عقد کا ایجاب ہو نہیں سکتا کہ ایجاب کلام اول ہے اور سکوت ترك کلام،اوریہاں اسے اجازت قرار دینے کی بھی کوئی سبیل نہیں کہ اجازت کے لئے کوئی عقد فضولی ہونا تو درکار ہے جسے جائز کیا جائے اور بداہۃً واضح کہ صیغہ مال والوں کا خانہ ملکیت میں کسی کانام لکھنا کوئی انشائے ہبہ نہیں ہوتا وہ تو صرف ایك یادداشت مالکیت ثابتہ ہے،نہ احداث ملك جدید،تو یہاں سرے سے کوئی عقد فضولی پایا ہی نہ گیا کہ سکوت بکر کو اس کی اجازت قرار دیں قطع نظر اس سے کہ مجرد سکوت مطلقا دلیل اجازت ہو بھی سکتاہے یانہیں خصوصا وہ بھی ایسا کہ محض ایك مصلحت کی بناپر ہو،پس ثابت ہوا کہ یہاں اصلا کوئی صورت تملیك متحقق نہ ہوئی اور حقیت بدستور بکر ہے،خالد کا دعوٰی اصلا قابل سماعت نہیں۔پھر اس تقریر کی حاجت بھی اس حالت میں ہے کہ وفات ہندہ کے بعد زید وبکر کا حصہ جداجدا منقسم ہوگیا ہو اس کے بعد بجائے بکر حصہ بکر میں نام خالد مندرج ہوا اور اگر قبل از تقسیم یونہی جائداد متروکہ غیر منقسمہ میں اندراج نام خالد ہوا(جیسا کہ ظاہر یہی ہے کہ فوتی نامہ بعد فوت معًا داخل ہوتاہے نہ جب جائداد کا ورثہ میں پٹے بانٹ ہوجائے)جب تو خالد کے لئے ملك ثابت نہ ہونا کسی بیان کا محتاج ہی نہیں اگر چہ نہ پٹواری بلکہ خود بکر نے نہ بلحاظ مصلحت بلکہ خاص بقید تملیك ہی خالد کانام درج کرایا ہو کہ اس حالت میں یہ اگر ہوگا تو غایت درجہ ہبہ مشاع ہوگا اور ہبہ مشاع اصلا مفید ملك نہیں اگر چہ اپنے بیٹے کے لئے ہو جب تك واہب تقسیم کرکے موہوب لہ کو قبضہ کاملہ نہ دے یہاں کہ اب تك قبضہ نہ ہوا ملك خالد کے کوئی معنی نہیں۔فتاوٰی خیریہ وعقود الدریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع