30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے اپنا بھائی چھوڑ کر انتقال کیا زید کے دوسرے پسر کی اولاد اس جائداد میں دعوٰی کرتے ہیں اس صورت میں دعوٰی ان کا قابل سماعت ہے یا وہ صرف حق وارثان عورت ہے اور اولاد پسر زید کا اس میں کچھ حق نہیں۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ نصف جائداد کہ زید نے اپنی بہو کو دی اس کی مالك مستقل بہو ہوگئی وارثان زید کا اس میں کچھ حق نہ رہا،نہ ان کا دعوٰی مسموع ہوسکتا ہے،وہ صرف حق وارثان عورت ہے
|
فان التملیك ان کان بیعا فظاہر وان کان ہبۃ فقد تمت بالتقسیم والقبض و لزمت بالموت۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ یہ تملیك بطور بیع ہو تو ظاہر ہے اور اگر بطور ہبہ ہو تو تقسیم اورقبضہ دینے سے تام ہوگیا اور موت سے لازم ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۵۷: ۲۳ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ چودہ برس کا ہوا مسماۃ ہندہ نے انتقال کیا،اور بعد اپنے دو بیٹے نام کلاں کا زید اور نام ثانی بکر تھا،اور بکر کا خالد نام ایك لڑکا بعمر دس سال تھا چھوڑا،جائداد متروکہ ہندہ میں بموجب ادخال فوتی نامہ پٹواری دیہہ محکمہ نظامت میں بجائے ہندہ زید پسر اور بجائے بکر خالد پوتا کا نام درج ہولیا بکر نے بخیال مصلحت خاص بغرض حفظ جائداد کہ وہ مقروض تھا اور اپنا نام لکھوانے میں خوف تلف ہونے اس جائداد کا تھا اس وقت سکوت اختیار کیا اور کوئی لفظ تملیك نہ کہااورنہ تملیك منظور تھی نہ کوئی تحریر مثل ہبہ نامہ یا بیعنامہ(مثل دیگر جائداد کہ اپنے روپے سے خالد کو اور اس کی ماں کو بذریعہ خرید وہبہ کے لکھ چکا)اس حقیت کی کی،اور نہ اس وقت تك باجود بالغ ہونے کے خالد کواس جائداد پرقبضہ دیا بخلاف دیگر جائداد کے جو دینا منظور تھی اس پر قابض ودخیل کردیا اور اس حقیت میں بطور فرضی نام درج رہا بکر کارکن اور قابض متصرف مالکانہ اس حقیت کا اس وقت تك ہے،اب خالد یعنی پسر بکر اس پر بھی قبضہ کرنا چاہتاہے اور بکر چاہتاہے کہ نام خالد کا محکمہ موصوف سے خارج ہوکر ترکہ مادری پر میرا نام درج ہو،لہذا بموجب شرع شریف بکر مستحق درج کرانے نام اپنے کا ہے یانہیں اور بموجودگی پسر کے پوتا کو ترکہ دادی پہنچتا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
محکمہ مال میں نام خالد کا اندراج جس کی بنا تحریر پٹواری پر تھی کوئی چیز نہیں کہ پٹواری خواہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع