30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۵۵: ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بعد انتقال مورث اعلٰی کے ترکہ مشترکہ سے جزوعمرو کو زبانی دیا یا بخشا یاکل حصہ خالد اور ولید کو بذریعہ تحریر ہبہ کیا اور جز ویا کل غیر منقسم پر قبضہ دیا،بعد اس کے دیگر شرکاء اور زید میں بابت ترکہ مشترکہ غیر منقسم مورث اعلٰی کے نزاع ہوکر تقسیم جائداد ہوئی،زید مذکور نے ازروئے تقسیم اپنا وہ حصہ کہ جس کا جزو یاکل ہبہ کر چکا تھا پایا اس کُل کو بیع کردیا صورت مذکورہ بالا میں دہندگی اور بخشندگی اور ہبہ زبانی وتحریر ی جائز اور قابل نفاذ ہے یانہیں؟ بیان کرو تم اجر پاؤتم۔
الجواب:
شے مشترکہ صالح تقسیم کا ہبہ قبل تقسیم ہر گز صحیح نہیں اور اگر یوں ہی مشاعا یعنی بے تقسیم موہوب لہ کو قبضہ بھی دے دیا جائے تاہم وہ شیئ بدستور ملك واہب پر رہتی ہے موہوب لہ کا اصلا کوئی استحقاق اس میں ثابت نہیں ہوتا،نہ وہ ہر گز بذریعہ ہبہ اس کا مالك ہوسکے جب تك واہب تقسیم کرکے خاص جزء موہوب معین محدود وممتاز جداگانہ پر قبضہ کاملہ نہ دے،یہاں تك کہ ایسے قبضہ ناقصہ کے بعد بھی اگر موہوب لہ اس شیئ میں بیع وغیرہ کوئی تصرف کرے محض باطل وناقابل نفاذ ہے اور واہب کے سب تصرفات جیسے قبل ہبہ نافذ تھے اب بھی بدستور تام ونافذ ہیں۔یہی حق وصحیح معتمد ہے اور اسی پر تعویل واعتماد لازم، پھر یہ شیوع چاہے یوں ہو کہ سرے سے خود واہب کی جائداد میں ایك حصہ غیر منقسم کا مالك ہے یہی حصہ کل یا بعض قبل تقسیم ہبہ کیا یا یہ تو اس کل چیز کا مالك تھا مگر ہبہ اس میں سے ایك جز وغیر منقسم کا کیا یا ہبہ بھی کل کا کیا مگر دو شخصوں کو دیا اور ہر موہوب لہ کا حصہ جداوممتاز کرکے قبضہ نہ دلایا،تینوں صورتوں کا وہی حکم ہے کہ ہبہ محض ناتمام اور ایسے قبضہ کے بعد بھی موہوب لہ کو اصلا ملك حاصل نہیں،۱تنویر الابصارمیں ہے:
|
تتم الہبہ بالقبض فی محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم ولولشریکہ فان قسمہ وسلمہ صح و لو سلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذتصرفہ فیہ [1] اھ ملتقطًا۔ |
مقسوم محفوظ اور ناقابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ قبضہ سے تام ہوتاہے جبکہ مشاع قابل تقسیم ہوتو اگرچہ شریك کو ہی ہبہ کیا وہ صحیح نہ ہوگا،ہاں اگر تقسیم کردیا اورقبضہ دے دیا تو صحیح ہوگا،اور مشاع کو ہی سونپ دیا تو موہوب لہ مالك نہ ہوگا لہذا اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا اھ ملتقطا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع