30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
|
اما اشترط کونہ یکتب فی حجۃ ویقید فی سجلات فلیس بلا زم شرعا ومخالف للموضوع الشرعی فان اللفظ بانفرادہ کاف فی صحۃ ذٰلك شرعا والزیادۃ لا یحتاج الیہا [1] اھ ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
لیکن شرط لگانا کہ اشٹام لکھا جائے اور رجسٹروں میں درج کیا تو شرعا یہ ضروری نہیں،اور شرعی وضع کے خلاف ہے کیونکہ اکیلا لفظ ہی اس کی صحت کے لئے کافی ہے اور زیادہ کی ضرورت نہیں اھ ملخصا،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۵۴: شعبان ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صور ت میں کہ زید نے ایك اراضی اپنے بیٹے کے نام خریدی،بعد ایك مدت کے وہ زمین ایك طبیب کوہبہ کی پسر زید اصل مالك زمین نے کہ عاقل بالغ تھا اس فعل کو جائز رکھا اور کہا مجھے منظور ہے چنانچہ وہ طبیب ایك مدت تك برضائے واہب ومالك اس زمین پر قابض ودخیل رہا،اب بعد انتقال زید وپسر زید نبیرہ زید اس زمین کو واپس لینا چاہتا ہے،آیا وہ اسے واپس لے سکتاہے ؟ اور اس واپس لینے کا اسے شرعا اختیار ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگرچہ زید کا ہبہ ہبہ فضولی تھا مگر جب اصل مالك نے اس کی اجازت دی اور موہوب لہ نے برضائے مالك قبضہ پالیا تو وہ زمین اس طبیب کی ملك تام ہوگئی اب کہ مالك نے انتقال کیا اصلا حق رجوع کسی کو نہ رہا نبیرہ زید کا ارادہ واپسی محض مہمل ہے اسے خواہ کسی کو اس زمین کو واپس لینے کااصلا اختیار نہیں۔درمختارمیں ہے:
|
باب موانع الرجوع یجمعہا حروف دمع خزفۃ و المیم موت احد المتعاقدین اھ [2] ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
رجوع سے موانع کویہ حروف جامع ہیں دمع خزقہ،اور"م" سے مراد عاقدین میں سے ایك کی موت ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع