30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من المشاع ان یہب بعضہ لواحد فقط فح ھو مشاع یحتمل القسمۃ بخلاف الفقیرین فانہ لا شیوع کما تقدم[1] اھ فما نحن فیہ عین عــــــہ تلك الصورۃ المصرح |
کہ یہاں مشاع سے مرادیہ ہے کہ ایك چیز کا بعض ایك کو دیا جائے تو یہ مشاع قابل تقسیم ہے بخلاف جب دو فقیروں کو ہبہ کیا جائے تو شیوع نہ ہوگا،جیساکہ گزرا ہے اھ تو ہماری زیر بحث صورت بعینہٖ یہی ہے۔ |
|
عــــــہ: ثم رأیت بحمد اﷲ تعالٰی نفس الجزئیۃ فی العقود الدریۃ حیث قال وجہ صحتہا اذا کانت لفقیرین ما صرحوا بہ من ان الصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالٰی وھو واحد فلا شیوع والا فقد صرحوا فی المتون ایضا بان الصدقۃ کالھبۃ لاتصف فی مشاع یقسم ای بان انہ لووھب دارہ مثلا التی تحتمل القسمۃ من غنیین لایصح للشیوع خلافالھما لو تصدق بہا علی فقیرین یصح اتفاقا لما مرولووھب نصفہا لواحد وتصدق بہ علی فقیر واحد لم یصح لتحقق الشیوع [2] اھ ھکذا ھو بالواؤ فی و تصدق فی النسخۃ المطبوعۃ ببولاق مصر ۱۲۷۳ من الھجرۃ المطہرۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
پھر میں نے بحمد اﷲ تعالٰی بعینہٖ یہ جزئیہ العقود الدریۃ میں دیکھا جہاں انہوں نے فرمایا،اس کی صحت دو فقیروں کی صورت میں ان کی تصریح کے مطابق یہ ہے کہ صدقہ سے اﷲ تعالٰی کی رضا مطلوب ہے اور وہ ذات واحد احد ہے توشیوع نہ ہوا،ورنہ تو خود فقہائے نے متون میں تصریح فرمائی ہے کہ صدقہ ہبہ کی طرح قابل تقسیم شیوع میں صحیح نہیں کہ ایك چیز کا بعض حصہ ایك کو صدقہ کرے،الحاصل اگر ایك مکان جو قابل تقسیم ہے دو غنی حضرات کوہبہ کیا تو شیوع کی وجہ سے صحیح نہیں،اس میں صاحبین کا اختلاف ہے،جبکہ یہ مکان دو فقیروں کو صدقہ کیا تو بالاجماع جائز ہے جسیا کہ گزراہے،اوراگراس مکان کا بعض غیر منقسم حصہ ایك فقیر کوصدقہ دیا اور بعض حصہ دوسرے ایك کو ہبہ کیا تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ شیوع پایا گیا،(بولاق مصر کے مطبوعہ ۱۲۷۳ھ کے نسخے میں "وتصدق"ہے،تصدق سے قبل واؤ ہے(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع