30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قہستانی میں ہے:
|
وکمالا یمنع الرجوع فی الھبۃ الفاسدۃ القرابۃ فکذا غیرھا من الموانع [1] اھ، اقول:فقد ظہر الجواب اذا کانوا جمیعا اغنیاء وکذا اذا کان بعضہم غنیا و البعض فیقر لان الشیوع انما لایعمل فی الصدقۃ اذا تصدق بالکل فقیرین اوفقراء لکون المراد بالکل ح ھو وجہ الواحد الاحد الفرد جل جلالہ کما مرعن الدرالمختار [2]۔امااذاکان بعضہ ھبۃ لغنی فلم یکن المراد بکلہ وجہہ تعالی فتحقق المعنی المانع عن افادۃ الملك الاتری الی ماصرح بہ فی تنویر الابصار و شرحہ الدرالمختار من ان الصدقۃ کالھبۃ بجامع التبرع وح لاتصح غیرمقبوضۃ ولا فی مشاع یقسم [3] اھ قال فی البحر فان قلت تقدم ان الصدقۃ لفقیرین جائزۃ فیما یحتمل القسمۃ بقولہ وصح تصدق عشرۃ لفقیرین قلت المراد ھھنا
|
جس طرح قرابت فاسدہ ہبہ کو واپس لینے میں مانع نہیں اسی طرح دیگر امور بھی مانع نہیں اھ،اقول:(میں کہتاہوں)تو جواب واضح ہوگیا کہ صدقہ کی صورت میں سب غنی ہوں یا بعض غنی اور بعض فقیر ہوں تو رجوع صحیح نہیں ہے کیونکہ شیوع صدقہ میں موثر نہیں اسی لئے جب کل دو۲ یا کئی فقیروں پر صدقہ کیا تو صحیح ہے کیونکہ صدقہ واحد احد جل جلالہ کے لئے ہوتاہے جیسا کہ درمختار سے گزرا اور اگراس کُل کا بعض حصہ کسی غنی کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ اب کل اﷲ وحدہ کے لئے نہ ہوا تو صحیح معتمد مذہب کے مطابق مفید ملك ہونے سے مانع پایا گیا۔آپ نے دیکھا تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار نے جوتصریح کی کہ صدقہ ہبہ کی طرح تبرع کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے تو مفید ملك نہ ہونے کی صور ت میں غیر مقبوض اور قابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ صحیح نہ ہوگا اھ،بحر میں فرمایا اگر اعتراض ہوکہ پہلے یہ گزرا کہ قابل تقسیم غیر منقسم چیز کا صدقہ دو۲فقیروں کو جائز ہے جو اس عبارت میں بیان کیا کہ دس دراہم دو۲ فقیروں کو جائز ہے تو میں جواب دیتاہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع