30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایا ہی نہ تھا جو شرائط رجوع دیکھےجائیں بلکہ بعض علماء کو ہبہ مشاع کو فاسد اور بعد قبضہ ناقصہ مفید ملك خبیث مانتے ہیں ان کے نزدیك بھی اس کا رد واجب،اور واہب کو ہمیشہ اختیار رجوع رہتاہے جس سے قرابت خواہ موت احدالعاقدین وغیرہما کوئی مانع اصلا منع نہیں کرسکتا۔بہرحال اس صور ت میں ان لوگوں کا قبضہ اگرچہ سالہاسال ہے محض ناجائز وبے اثر اکہ تقادم مدت سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ کالدار و الارض ولوصدق الوارث علی صدورھا من المورث ولا تفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی ولوسلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحاوی و قاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ و ذکر عصام انہا تفید الملك وبہ اخذ بعد المشائخ انتہی،ومع فادتہا للملك عندھذا البعض اجمع الکل علی ان اللواھب استرداد ھا من الموھوب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکما یکون للواہب الرجوع فیہا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونہا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاك [1] اھ ملخصا۔ |
قابل تقسیم چیز کا مشاعی طورپر(غیر منقسم)ہبہ صحیح نہیں، جیسے مکان اور زمین اگر چہ موروث کے مرنے کے بعد اس کے وراث تصدیق بھی کردیں کہ مورث نے یہ ہبہ کیا تھا،اور ظاہر الروایۃ میں یہ ہبہ مفید ملك ہیں ہے،امام زیلعی نے فرمایا اگر بطور شیوع ہبہ کیا تو موہوب لہ مالك نہ ہوگا حتی کہ اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا تو وہ مضمون بنے گا جبکہ واہب تصرف کرے تو نافذ ہوگا یہ طحاوی اور قاضیخاں نے ذکر کیا ہے،ابن رستم سے یہی منقول ہے جبکہ عصام نے ذکر کیا کہ مفید ملك ہوگا،اسی کو بعض نے لیا ہے اھ،ان بعض حضرات کے مفید ملك ہونے کے باوجود سب کا اس پر اتفاق ہےکہ اگر واہب واپس لینا چاہےتو لےسکتاہے اگرچہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہو،اور جس طرح خود واہب رجوع کرسکتاہے اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء بھی رجوع کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ قابل رد ہے اور ہلاك ہوجائے تو اس کا ضمان دیا جائے گا اھ ملخصا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع