30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اثنان دارًا لواحد صح وبعکسہٖ لا لشیوع فیما یحتمل القسمۃ واذا تصدق بعشرۃ دراھم اووھبھا الفقیرین صح لان الھبۃ للفقیر صدقہ والصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالٰی وہو واحد فلا شیوع،ویمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم و القرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نیسا لا یرجع [1] اھ ملتقطا وفی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن المضمرات لوقال وھبت منکما ھذہ الدار والموہوب لہما فقیران صحت الھبۃ بالاجماع اھ[2]،وفی مختصر القدوری لایصح الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض اھ [3]۔ |
دو حضرات نے ایك مکان ایك شخص کو ہبہ کیا تو صحیح ہے۔اگر عکس ہو یعنی ایك نے دو کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ قابل تقسیم غیر منقسم ہوا،اور اگر دس درہم صدقہ کئے یا دو فقیروں کو ہبہ کئے صحیح ہے کیونکہ فقیر کو ہبہ بھی صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اﷲ تعالٰی کے لئے ہوتاہے اور وہ ایك ہی ذات ہے،تو غیر منقسم ہونا نہ پایا گیا،اور فریقین سے ایك کا سونپ دینے کے بعد فوت ہوجا نا اور قرابت رجوع کے لئے مانع ہے تو اگر اپنے کسی نسبی ذی رحم محرم کو ہبہ کیا تو رجوع نہ کرے گا اھ ملتقطا،اور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے مضمرات کے حوالہ سے منقول ہے اگر کہا کہ میں تم دونوں کو یہ مکان ہبہ کرتاہوں حالانکہ موہوب لہ دونوں فقیر ہیں تو ہبہ صحیح ہے بالاجماع اھ اور مختصر القدوری میں ہے قبضہ کے بعد صدقہ میں رجوع صحیح نہیں اھ۔(ت) |
اور اگروہ مکان بڑا یعنی قابل تقسیم تھا اور زید نے مشاعا چاروں کو ہبہ کیا اور تقسیم کرکے خاص خاص معین حصوں پر جدا جدا قابض نہ کردیا اور موہوب لہم سب یا بعض اس وقت غنی بمعنی مذکور تھے(یعنی ان میں کوئی بذات خود مالك نصاب تھا یا ان میں کسی نابالغ کا باپ مالك نصاب زندہ موجود تھا)تو رجوع وواپسی درکنار یہ ہبہ صحیح ومعتمد وظاہر الروایۃ پر سرے سے مفید ملك واقع نہ ہوا مکان بدستور ملك زید پر باقی ہے جس میں موہوب لہم خواہ ان کے ورثہ کا کوئی حق نہیں ان پر لازم ہے کہ سارامکان زید کو واپس دیں اور زید قطعا اختیار رکھتاہے کہ جس وقت چاہے بے ان کی رضامندی کے بطور خود قبضہ کرلے جس سے نہ ان کی قرابت منع کرسکے نہ بعض عاقدین کا مرجاناکہ مکان ان کی ملك میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع