30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ما اشتراہ احدہم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائۃ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترك [1]۔ |
ان میں سے جو بھی اپنی ذات کے لئے خریدے گا وہ اسی کی ہوگی،اور اس کے شرکاء حضرات اتنے ثمن کا اس کو ضامن بنائیں بشرطیکہ اس نے مشترکہ مال سے ادائیگی کی ہو۔(ت) |
پس ثابت ہوا کہ زید نے جو نقد روپیہ چھوڑا یا زید عمرو وزوجہ زید کے نام جو جائدادیں تھیں پس وہی متروکہ زید وزوجہ زید ہیں باقی جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام یا بکر نے خود اپنے نام یا اپنے بیٹوں کے نام خریدیں ملك بکر وپسران بکر ہیں جن میں باقی ورثہ زید کا کوئی حق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ جائداد موروثی اور خود خرید مقبوضہ مملوکہ اپنے کے بنظر حق تلفی دیگر ورثاء شرعی کے نصف جائداد بطریق ساز اور مصلحت وقت اپنی زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ کے نام تاحین حیات اس کے ھبہ کردی اور اختیار انتقال اور قبضہ جائداد موہوبہ پر موہوب الیہا کونہ دیا اور تحصیل وتشخیص ومصارف ضروری وغیر ضروری اپنے اختیار میں رکھی اور یہ شرط ھبہ نامہ میں لکھی کہ بالعوض حق الخدمت یہ جائداد ھبہ کی جاتی ہے تاحین حیات اپنے موہوب الیہا مالك اس جائدا کی گردانی جائے اس کے بعد دختر متوفیہ کی اولاد کہ محجوب الارث ہے مالك ہوگی اور وہ شیعہ مذھب ہے،بعد تملیك ھبہ نامہ کے زید نے ایك جزء موہوبہ کا بیع کرڈالا اور بقیہ موہوبہ کو بشمول جز منجملہ نصف جائداد وغیرہ موہوبہ کے اپنی اور زوجہ مدخولہ کی طرف سے اس نواسہ شیعہ محجوب الارث کے نام بلاکسی استحقاق ھبہ مکر رکیا اور تاحین حیات اپنے خود قابض ومتصرف رہا اور مرگیا،ایسی صورت میں یہ ھبہ شرعا جائز ہے یاناجائز؟
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں ھبہ محض باطل وبے اثر ہیں اور جائداد میں اس عورت خواہ نواسے کا کوئی استحقاق بذریعہ ھبہ نہیں بلکہ تمام وکمال وہ جائداد خاص متروکہ زید قرار پاکر بحکم فرائض اس کے وارثوں پر تقسیم کی جائے گی یہاں بطلان ھبہ کے لئے اگر اور کوئی وجہ نہ ہو تو اسی قدر بس ہے کہ حیات واھب میں قبضہ نہ ملا،عالمگیریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع