30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاتصیر ملکالہ [1]۔ |
کردیا اس سے بیٹے کی ملکیت نہ بنے گی۔(ت) |
یوہیں زید کا جائداد عمرو پسر دوم کی نسبت اس کی مرگ کے بعد یہ ظاہر کرنا کہ جائداد میری ہے میرے روپیہ سے خریدی گئی،عمرو کانام فرضی تھا کچھ مضرت نہیں کرتا کہ اول تو یہ صرف اس کا زبانی دعوٰی تھا ملك عمرو شرعا ثابت ہوئی صرف اس کے اسم فرضی بتانے سےکیونکر زائل ہوسکتی تھی،نہ اس کے روپیہ سے خریدا جانا اس کے ملك پر دلیل تھا جبکہ صراحۃ اس نے پسر نابالغ کے نام خریدی، فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب [2]۔ |
باپ کے مال سے خریداری کرنے سے لازم نہیں کہ وہ مبیع باپ کی ملك ہو۔(ت) |
اور بالفرض ہوبھی تو اس سے بکر کا نام بھی فرض ہونالازم نہیں۔تو بلاوجہ دلیل شرعی سے کیونکہ عدول ہوسکتاہے،پس لاجرم یہ جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام خریدیں ہر گز محل توریث نہیں۔اسی طرح وہ بھی جو بکر نے اپنے یا اپنے نابالغ بیٹوں کے نام مول لیں اگرچہ قیمت زر مشترك سے ادا کی ہو،
|
فان الشراء متی وجد نفاذا علی عاقد نفذ کما فی الھدایۃ والدرالمختار [3]وغیرھا من الاسفار۔ |
کیونکہ خریداری جب خریدار پر نافذ ہوتو وہ نافذ ہی قرار پائے گی،جیسا کہ ہدایہ،درمختار وغیرہما کتب میں ہے۔(ت) |
خیریہ میں ہے:
|
لاتثبت الدار للاب بقول الا بن اشتریتھا من مال ابی [4]۔ |
بیٹے کے یہ کہنے سے کہ میں نے یہ گھر باپ کے مال سے خریدا ہے،باپ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔(ت) |
غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترك سے دیا گیا تو باقی ورثاء کا اس قدر روپیہ بقدر اپنے اپنے حصص کے بکر پر قرض رہے گا جس کے مطالبہ کے وہ مستحق ہیں نہ کہ جائداد کا کوئی پارہ ان کی ملك ٹھہرے،ردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع