30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لانہ ولیہ [1]۔ |
کیونکہ یہ اس کا ولی ہے۔(ت) |
اورآمدنی جائداد سے بکر کو سروکار نہ ہونا بھی ملك بکر کے منافی نہیں نابالغ کی خود اپنی جائداد خاص غیر عطائے پدرہوتی ہے تو اس پر اور اس کی آمدنی پر بھی باپ ہی کا تصرف واختیار ہوتا نابالغ کو اس سے بھی کچھ سروکار نہ ہوتا اور بعد بلوغ بھی عام طورپر دیکھا جاتاہے کہ جو جائدادیں لوگ اپنے بیٹوں کو لکھ دیتے اور تکمیل ھبہ کے لئے بھی قبضہ کرادیتے ہیں بلکہ در پردہ بیع صحیح شرعی وھبہ ثمن تملیك بلاعوض کی تکمیل کرتے ہیں ان پر بھی تاحیات آباء ان مالکان واقعی کا کچھ اختیار اور باپ کی دست نگری کے ساتھ روٹی کپڑے کے سوا کسی چیز سے سروکار نہیں ہوتا اور اتفاقا جو حیات پدر میں اپنا مستقل اختیار رکھنا چاہتاہے بدوضع وآوارہ ناسعادت مند گنا جاتاہے،نظیر اس کی اس کا عکس ہے کہ جب بیٹے لائق وہوشیار وقابل کار ہوتے اور باپ اپنا فارغ البال رہنا چاہتے ہیں تمام املاك پدر قبضہ وتصرف ابناء میں رہتے ہیں۔مالکوں کو روٹی کپڑے کے سوا کچھ تعلق نہیں ہوتا جبکہ اس سے بیٹوں کا مالك ہونا لازم نہیں آتا اس سے باپ کا مالك ہونا ہی سمجھا جائے گا بلکہ بدرجہ اولٰی کہ بیٹوں کا قبضہ نہ ہونا توکراہت قلبی سے بھی ہوسکتاہے کہ دل میں قبضہ پدر سے راضی نہ ہو مگر لحاظ کے باعث مانع نہیں آتےخصوصا نابالغ کہ اس کی رضا بھی کوئی شے نہیں بخلاف آباء کہ ان کی املاك پر تصرفات ابناء ان کی رضاہی سے ہوتے ہیں باوجود اس کے یہ قبضہ واختیار وتصرف واقتدار دلیل ملك نہیں ہوتا،
|
کما فی الخیریۃ وفی القنیۃ فع(ای فتاوٰی العصر للامام علی السندی)عن(ای الامام عمر النسفی) امراوالادہ ان یقسموا ارضہ التی فی ناحیۃ کذا بینہم ففعلوا لایثبت الملك لہم،ظم(ای الامام ظہیر الدین المرغینانی)مثلہ بخ(ای الامام بکر خواہر زادہ)قال لولدہ تصرف ھذہ الارض فاخذ یتصرفہا |
جیسا کہ فتاوٰی خیریہ میں ہے،اور قنیہ میں"فع"یعنی فتاوٰی العصر امام علی سندی عن یعنی امام عمر نسفی،باپ نے بیٹوں سے کہا کہ فلاں علاقہ میں واقع میری زمین کو آپس میں تقسیم کرلو،انہوں نے ایساکیا تو بیٹوں کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔ "ظم"یعنی امام ظہیر الدین المرغینانی،اس کی مثل"بخ"یعنی امام بکر خواہر زادہ،ایك شخص نے اپنے بیٹے سے کہا اس زمین میں تصرف کرلو،تو بیٹے نے تصرف شروع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع