30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائداد میں سے جو کہ زی کے نام اور زید کی بی بی کے نام اور عمرو متوفی کے نام تھی مل سکتاہے،لہذا التماس ہے کہ فتوٰی بموجب حکم خدا اور رسول دیا جائے تاکہ اس پر عملدرآمد کیا جائے۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب،وہ جائداد کہ زید نابالغ بیٹے بکر کے نام بدفعات اپنے روپیہ سے خریدی خاص ملك بکر کی ہے جس میں دیگر وارثان زید کا اصلا کچھ حق نہیں، عقودا لدریہ فی تنقیح الحامدیہ میں ہے:
|
فی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملیك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ [1]اھ مافی العقود اقول:فشراء الاب باسم الولد یقع رأسا للولد لان الاب یملك ذٰلك فالولد ملك العقار ابتداءً والاب متبرع باداء الثمن حیث لم یظہر قصد الرجوع۔ |
ذخیرہ اور تجنیس میں ہے،عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی زمین اپنے مال سے خریدی تو یہ خریداری ماں کی اپنی ہوگی کیونکہ وہ نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کی مالك نہیں، تو یہ زمین بیٹےکی ہوگی کیونکہ ماں نے اسے ھبہ کیا ہے عقود الدریہ کی عبارت ختم ہوئی، اقول:(میں کہتاہوں)تو باپ کی ایسی خریداری ابتداء سے بیٹے کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ہی ہوگی کیونکہ باپ کو نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کا اختیار ہے اور باپ رقم کی ادائیگی میں بیٹے کے حق میں متبرع ہوگاکیونکہ اس نے رجوع کااظہار نہیں کیا۔(ت) |
اور جائداد کا تاحیات زید قبضہ بکر میں نہ آنا کچھ مضر نہیں کہ اول تو زید کی ملك بربنائے ھبہ نہیں بلکہ بربنائے خرید پدر ہے کما علمت اٰنفا(جیسا کہ تونے ابھی جانا۔ت)اور ملك بذریعہ شراء قبضہ پر موقوف نہیں اور بالفرض ھبہ ہی ٹھہرائے تو قبضہ پدر بعینہٖ قبضہ پسر نابالغ ہے،مجمع الانہر میں ہے:
|
ھبۃ الاب لطفلہ تتم بالعقد لانہ فی قبض الاب فینوب عن قبض الصغیر |
نابالغ بچے کے لئے باپ کا ھبہ صرف عقد سے ہی تام ہوجا تاہے کیونکہ وہ ھبہ باپ کے قبضہ میں بیٹے کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع