دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

بیکار ہیں اور اس کا غذ کانام شرع میں کچھ نہیں کہ جب شرعا یہ کوئی عقد ہی نہ ہوا تو اس کا نام کیا رکھا جائے اور رشیدہ اور اس کی اولاد کو ان تحریرات کی رو سے مطلق کسی طرح کا استحقاق نہ اصل جائداد میں حاصل ہوا نہ زر تو فیر میں،نہ انھیں دعوٰی کرنا شرعا جائز بلکہ حرام وممنوع،واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۴۹:                               ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے بحالت نوکری سرکاری اپنے بیٹے بکر کے نام جو کہ اس وقت محض نابالغ تھا اپنے روپیہ سے کچھ جائداد خریدی اور کچھ جائداد اپنی بی بی منکوحہ کے نام خریدی اور اس وقت ایك بیٹی بابالغ بھی تھی اس کے نام نہیں خریدی پھر زید کے ایك اور لڑکا پیدا ہوا اس کے نام بھی کچھ جائداد خریدی مگر وہ لڑکا بحالت نابالغی ہی میں فوت ہوگیا جب اس فوت شدہ لڑکے کے نابالغ کی جائداد کے کرایہ دار کو بیدخل عدالت سے زید نے کرایا تو عدالت میں زید نے بیان کیا کہ جائداد میری ہے اور میرے روپیہ سے خریدی گئی ہے لڑکے کا نام اسم فرض تھا،جب زید نوکری سے علیحدہ ہوکر اپنے مکان پر رہا تو اس وقت زید کی دو اور لڑکیاں بھی نابالغ تھیں ان کے نام بھی جائداد نہیں خریدی اس وقت اپنے نام جائداد خریدی اور کچھ بیٹے بکر کے نام سے بھی(جوکہ اس وقت قریب بلوغیت کے تھا)خریدی مگر زید کل جائداد کی آمدنی جو اپنے نام اور بکر کے نام اور بیٹے متوفی کے نام اور اپنی بی بی کے نام تھی از خود وصول کرتا تھا اور اپنے تحت اوراختیار میں رکھتا تھا کسی کو اس میں مداخلت نہ تھی اور زید کی زندگی میں بکرکو جو کہ اس وقت بالغ تھا یہ اختیار نہ تھا کہ جائداد یا جائدادکی آمدنی سے کچھ کسی صرف روٹی کپڑے سے جیسا کہ دنیا میں باپ بیٹوںکو کھلاتے ہیں کھاتے اور پہنتے گو زید نے بکر کی شادی بھی کردی تھی مگر اس حالت میں بھی بکر کو آمدنی جائداد سے کچھ سروکار نہ تھا جو جائداد بکر کے نام سے خریدی تھی اس کے نالشات کی پیروی میں بکر ہمراہ زید کے جایا کرتا تھا کہ بکر کے نام سے ہوتی تھی چنانچہ زید کی زندگی میں حالت مذکورہ بالا رہی،جب زید نے وفات پائی تو اس وقت یہ کل جائداد اور اسباب اور نقدی بکر اور والدہ بکر کے پاس رہی اور بکر تحصیل آمدنی کرنے لگا،جب والدہ بکر نے بھی انتقال کیا تو سب جائداد وجنس ونقد بکر کے ہاتھ آئی اس وقت سے آج تك بکر قابض ومتصرف ہے،بکر نے اب کل جائداد کی آمدنی کی توفیر اور اس روپیہ سے جو کہ زید چھوڑ کر مرا اور جائداد اپنے نام اور اپنے دوبیٹوں کے نام خریدی،اب اگر تقسیم جائداد کی ہو اور بہنیں اپنا حصہ طلب کریں تو ازروئے شرع شریف آیا کل جائداد میں سے جو کہ بکر کے نام پہلے تھی اور اب بکر نے زید کے روپیہ اور کُل جائداد کی آمدنی کی توفیر سے اپنے نام اور اپنے بیٹے کے نام سے خریدی تھی حصہ مل سکتاہے یا صرف اُس


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن