30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض جہاں تك نگاہ کی جائے اس عقد کے لئے کوئی وجہ صحت نہیں،نہ جائداد کا ھبہ ٹھیك آتا ہے نہ توفیر کا،نہ وصیت نہ کوئی صورت،پھر محمود کے یہ الفاظ"کہ منمقر ووارثانم را"الخ کیا کام دے سکتے ہیں،آخر جس بنا پر اس نے یہ الفاظ لکھے تھے جب راسا وہی منعدم ہے تو یہ جواس پر مبنی تھے خود منعدم ہوگئے،بھلا یہ عقد تو شرعا کچھ اصل ہی نہیں رکھتا خاص ھبہ صحیحہ میں شرع مطہر کا حکم ہے کہ جب تك موہوب لہ کاقبضہ نہ ہوجائے واھب کو ہر وقت نہ دینے کا اختیار ہے اور اس پر قبضہ دلانے کا جبرنہیں ہوسکتا،
|
لانہ متبرع والمتبرع لاجبر علیہ فی الدرالمختار صح الرجوع فیہا بعدالقبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ [1] اھ ای والرجوع انما یکون عن شیئ وقع وتم وقبل عــــــہ التمام دفع لارفع۔ |
کیونکہ وہ متبرع(بھلائی کے طور پر مفت دینے والا)ہے اور متبرع پر جبر نہیں ہوسکتا۔درمختارمیں ہے ھبہ میں قبضہ دینے کے بعد رجوع صحیح ہے جبکہ قبضہ سے قبل توھبہ تام ہی نہیں ہے اھ یعنی شیئ کے وقوع اور تام ہونے کے بعد رجوع ہوتاہے جبکہ تام ہونے سے قبل دفاع ہوتاہے رفع نہیں ہوتا۔ (ت) |
اور کوئی شخص اپنی کسی تحریر خواہ تقریر سے احکام شرع مطہر کو نہیں بدل سکتا۔دیکھو جہاں موانع نہ ہوں تو شرع نے واجب کو بعد قبضہ بھی رجوع کا اختیار دیا اگر چہ وہ ہزار بار کہے میں نے اپنا حق رجوع ساقط کیا،مجھے رجوع کا اختیار نہ رہا اگر رجوع کروں تو نامقبول ہو کچھ مسموع نہیں۔اور حق رجوع بدستور باقی۔
|
فی فتاوٰی الامام قاضیخان رجل وھب لرجل شیئا ثم قال الواھب اسقطت حقی فی الرجوع لایسقط حقہ [2] اھ ومثلہ فی البزازیۃ وغیرھا۔ |
امام قاضی خان کے فتاوٰی میں ہے ایك شخص دوسرے کو ھبہ کرکے کہے میں نے اس سے رجوع کا ساقط کردیا ہے تو اس کا یہ حق ساقط نہ ہوگا اھ اور اسی طرح بزازیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت) |
اور جب اس کے کہنے سے خود اُس کا حق زائل نہیں ہوتا تو ورثہ کو نزاع ودعوٰی سے کون مانع ہوسکتاہے فان الرجل اقدر علی نفسہ منہ علی غیرہٖ کما لایخفی(کیونکہ دوسرے کی نسبت انسان کو اپنی ذات پر قدرت زیادہ ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں خلاصہ حکم یہ ہے کہ محمود وحمیدہ کی یہ سب دستاویزیں محض لغو ومہمل و
|
عــــــہ:لیس فی الاصل الواو قبل قبل ولابدمنہ ۱۲ عبدالمنان |
(اصل میں قبل سے پہلے واؤ نہیں ہے حالانکہ یہاں واؤ ضروری ہے) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع