30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یجز علیہ فہذہ کلہا باطلۃ،وان اجازہا الصبی بعد بلوغہ لم تجز لانہ لا مجیز لہا وقت العقد فلم تتوقف علی الاجازۃ الااذاکان لفظ اجازتہ بعد البلوغ مایصلح لابتداء العقد فیصح ابتداء لااجازۃ کقولہ اوقعت ذٰلك الطلاق فیقع لانہ یصلح للابتداء [1] اھ ملتقطا۔ |
کرتا تو بچے پر لاگو نہ ہوتا،تو بچے کے یہ تمام امور باطل ہیں۔ اور بلوغ کے بعد اگر وہ ان امور کو جائز کرے تو بھی جائز نہ ہوں گےکیونکہ عقد کے وقت ان کو جائز کرنے والا کوئی نہ تھا لہذا وہ اجازت پر موقوف نہ ہوئے،ہاں اگر بلوغ کے بعد ایسے لفظ سے جائز کرے جس سے ابتداء عقد ہوسکے تو ابتداء عقد کے طور پر یہ صحیح ہوجائے گی تاہم اجازت نہ کہیں گے،مثلا بلوغ کے بعد یوں کہے میں نے وہ طلاق واقع کی۔تو طلاق اب ہوگئی کیونکہ یہ لفظ ابتدائے طلاق کی صلاحیت رکھتا ہے اھ ملتقطا۔(ت) |
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ محمود کا بعد بلوغ دستاویز نوشتہ حمیدہ کو مسلم مقبول رکھنا بھی محض مہمل و بے سود اور شرعا نامقبول ومردود،اب اس نے جو خودابتداء دوبار تملیك نامہ لکھا وہ عبارتیں صراحۃ نص ہیں کہ محمود نے صرف زر آمدنی وتوفیر رشیدہ کو دینا چاہا اصل رقبہ جائداد کی ھبہ وتملیك کا ان میں کہیں ذکر نہیں،تحریر اول میں کہ ایك جگہ یہ لفظ واقع ہوا"آنچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم بمن میرسد مالکش رشیدہ است"وہاں بھی حصہ سے مراد صرف حصہ توفیر ہے کہ اس سے پہلے تصریحا لفظ آمدنی مذکور اوریہاں بھی باندازہ مبلغ پنچ ہزار روپیہ کا لفظ اسی طرف ناظر،اور یہ عقد وصیت تو کس طرح نہیں ہوسکتا کہ وصیت میں فی الحال مالك نہیں کیا جاتا۔
|
لانہا تملیك مضاف الی ما بعد الموت کما فی التنویر وغیرھا [2]۔ |
کیونکہ یہ تملیك مابعد الموت کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسا کہ تنویر الابصارمیں وغیرہ میں ہے۔(ت) |
اور عبارات زید صریح ہیں کہ رشیدہ فی الحال مالك ٹھہرائی گئی کما لایخفٰی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)نہ یہ ممکن کہ بلحاظ لفظ نسلا بعد نسل جو لوگ نسل رشیدہ سے بعد کو پیداہوں ان کے حق میں وصیت قرار دی جائے کہ وہ وقت عقد معدوم تھی اور معدوم کے لئے وصیت باطل،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع