30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الفاظ تحریر اول وتصریحات تحریر دوم)صرف آمدنی وزر توفیر کا دینا اور عطا کرنا ہے اور اس عقد کو ھبہ کہا جائیگا اور اسی کے شرائط اس کی صحت میں درکار ہوں گے(یا اس خیال سے کہ محمود نے صرف رشیدہ ہی کو مالك نہ کیا بلکہ بطنا بعد بطن ونسلا بعد نسل اس کی اولاد کے نام بھی تملیك کی)وصیت قرار پائے گا وبہر تقدیر شرعا صحیح رہے گا یا باطل۔اگر باطل ٹھہرے تو محمود کے یہ الفاظ (کہ من مقرو وارثانم رادرآں دخلے وحقے ونزاعے نیست ونماندہ)اس کے یا اس کے ورثہ کے حق کو زائل کریں گے یانہیں؟ اور ان تحریرات کا شرعا کیا نام ہے؟ ھبہ نامہ یا اقرار نامہ یا تملیك یا کچھ اور؟ بینوا توجروا
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب ان انت العزیز الوھاب،یہ توظاہرہے کہ ابتداءً حمیدہ والدہ محمود ہ کا بنام رشیدہ جائداد محمود نابالغ کا تملیك نامہ لکھ دینا کوئی شے نہ تھا کہ نہ ماں دربارہ مالی ولی نہ خود ولی تھی کہ باپ کو مال صغیر سے ایك ذرہ کسی کو ڈالنے کااختیار نہیں۔
|
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ دون الام فی المال اھ [1] ملخصا۔وفیہ من الھبۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولو بعوض لانہا تبرع ابتداءً[2] اھ۔ |
درمختار میں ہے کہ مال میں نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے ماں ہے اھ ملخصا،اور اسی میں ھبہ کے متعلق ہے والدہ کو حق نہیں کہ وہ بچے کے مال سے کوئی چیز ہبہ کرے خواہ بالعوض کیوں نہ ہو کیونکہ ھبہ ابتداء تبرع ہوتاہے۔اھ(ت) |
تو وہ عقد محض باطل واقع ہوا یہاں تك کہ خود محمود کے بعد بلوغ جائز ومسلم رکھنے سے بھی اس کی اصلاح ممکن نہیں،
|
لانہ عقد فضولی صدر ولامجیز،فی حجر العقود الدریۃ عن جامع الفصولین لو طلق الصبی امرأتہ او وھب مالہ اوعقد عقدا ممالو فعلہ ولیہ فی صباء |
کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جس کا جائز کرنے والا کوئی نہیں،اور عقود الدریۃ کے باب الحجر میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ اگر بچہ بیوی کو طلاق دے یا کوئی ھبہ کرے یا کوئی ایساعقد کرے کہ اگر وہ عقد اس کا ولی اس کے بچپن میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع