30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کہ دردیہات جاگیر موروثی محدودہ ذیل کہ شرعا از ترکہ پدری خالصا بہ منمقر رسیدہ منجملہ آں مبلغ چہار ہزار روپیہ منمقراہل خانہ خود مسماۃ رشیدہ بنت سعد را بطوع ورغبت بلااکراہ واجبار بطنا بعد بطن ونسلا بعد نسل علی سبیل الدوام والاستمرار ملك گردانیدم چوں وہیوٹ ومختاری آں از قدیم الایام بقبضہ من است وحصہ داراں دیگر کہ دریں جاگیر شریك اند باوشاں زر نقد موافق حصہ ہائے مقسومہ آنہا ہموارہ می رسانم ہمیں طور اند آمدنی مملوکہ واہل خانہ خود مثل دیگر حصہ داراں بہ اہل خناہ موصوفہ واولادش ہمیشہ بلاعذر وتکرار خواہم رسانید اگر از جانب منمقر مسماۃ بلاعذر وتکرار خواہم رسانید اگر از جانب منمقر مسماۃ مذکورہ دروصول حؓق خود کہ معین ومقرر کردہ شود فتورے وتہاونے بیند پس اوشاں را اختیار کل ست بہ نہجیکہ خواہندہ از منمقر حق خود بگیرند ومسماۃ مذکورہ رادر صورت زر مذکور اختیارکلی ست منمقرووارثانم رادرآں حقے ودخلے ودعوی و نزاعے نیست ونماندہ ایں چند کلمہ بطریق اقرار نامہ و وثیقہ وتملیك نامہ نوشتہ شد کہ عند الحاجۃ سند باشد۔
|
کہ دیہات میں موروثی جاگیر جس کی حدود ذیل ہیں میں سے جو مجھے شرعی طور پر والد کے ترکہ سے حصہ پہنچتاہے اس میں سے مبلغ چار ہزار روپیہ کا میں مقر اپنے اہل خانہ مسماۃ رشیدہ بنت سعید کو اپنی خوشی اور رغبت سے بلاجبر واکراہ بطن دربطن نسلا بعد نسل دائمی اور استمرار کے طور پر مالك بناتاہوں جس طرح قدیم ایام سے اپنے کھاتہ اور مختاری جو میرے قبضہ میں ہے اور اس جاگیر میں دیگر حصہ دار شریك حضرات کو مساوی نقد زر کے موافق حصہ پہنچاتاہوں اسی طرح اپنی مملوکہ اور اپنے اہل خانہ کے دوسرے حصہ داروں کی طرح موصوفہ اہل خانہ اور اس کی اولاد کو ہمیشہ بلاعذر وتکرار حصہ پہنچاتارہوں گا اگر من مقر کی طر ف سے معین ومقرر حصہ کی وصولی میں مسماۃ مذکورہ کوئی کوتاہی اور سستی دیکھے تو اس پر اس کو کلی اختیار ہوگا کہ جس طرح چاہے مجھ مقر سے اپنا حق وصول کرے اور مسماۃ مذکورہ کو زرمذکور کے صرف میں کلی اختیار ہے من مقر اور میرے ورثاء کو اس میں کوئی دخل،حق، دعوٰی اور نزاع نہیں ہے اور نہ ہوگا۔یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ وثیقہ اورتملیك نامہ لکھا ہے کہ عندالضرورت سند رہے (ت) |
اور یہ جائداد جس کا ان دستاویزوں میں تذکرہ ہے محمود ودیگر ورثائے حمیدہ میں مشترکہ وغیرہ منقسم ہے اب شرع مطہر سے استفسار ہےکہ یہ تحریرات شرعامقبول ہوبکار آمد ہے یانہیں اور ان کی رو سے رشیدہ اس جائداد یا اس کی آمدنی کی مالك ہوئی یا نہیں اور یہ عقد کہ محمود سے بہ تکرار واقع ہوا بدیں لحاظ کہ اس کی والدہ نے جائداد موروثی کا تملیك نامہ لکھا تھا اور اس نے اسے منظور ومسلم رکھا اور خود اس کی تحریروں کے بعض الفاظ سے رشیدہ کوخاص حصہ جاگیر کامالك کرنا نکلتا ہے(اصل رقبہ دیہات کی تملیك ہے یا بلحاظ دیگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع