30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکانت الدار مشغولۃ یمتاع الواھب لم تتم الھبۃ لعدم الرتفاع ید الواھب فلم یکمل القبض وفی ردالمختار ان کان الموھوب مشغولا بحق الواھب لم یجز کما اذا ووھب السرج علی الدابۃ لان استعمال السرج انما یکون للدابۃ فکانت للواھب علیہ یدمستعملۃ فتوجب نقصانا فی القبض [1]۔ |
واھب کے سامان میں مشغول ہے تو ھبہ تام نہ ہوگا کیونکہ واھب کا قبضہ ابھی ختم نہیں ہوا،تو موہوب لہ کا قبضہ تام نہ ہوا،ردالمحتار میں ہے اگر موہوب ابھی واھب کے حق میں مشغول ہے تو جائز ہوگا مثلا کوئی شخص گھوڑے پر لگی کاٹھی کسی کو ھبہ کرے کیونکہ کاٹھی کا استعمال جانور پر ہوتاہے تو واھب کا ابھی قبضہ باقی اور زیر استعمال ہے تو اس سے قبضہ میں ابھی نقص باقی ہے۔(ت) |
بالجملہ عمرو جب تك اپنا قبضہ بالکلیہ اٹھا کر موہوب لہما کو قبض کامل نہ کرادے ھبہ ہرگز تمام نہ ہوگا اور موہوب ملك عمرو سے باہر نہ آئے گا،اسی طرح عمرو کا متعدد پیرایوں میں ملکیت بکرو خالد کا اقرار دیانۃ کچھ مفید نہیں کہ یہ اقرار صرف بربنائے ھبہ ہے کما لایخفٰی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)اوربہ سبب ناتمامی یہ ھبہ شرعا مثبت ملك نہ ہوا تو عنداﷲ اقرار غلط کہ شرعا وجہ صحت نہیں رکھتا اثبات ملك کے لئے کافی نہ ہوگا۔
|
فی الدرالمختار لواقر کاذبالم یحل لہ لان الاقرار لیس سبب للملك نعم لوسلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ [2]۔بزازیۃ اھ،فی حاشیۃ الطحطاویۃ قولہ لم یحل لہ ای لایجوز لہ اخذہ جبرادیانۃ کاقرارہ لامرأتہ بجمیع مافی منزلہ ولیس لہا علیہ شیئ [3] انتھی،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے اگر مالك کسی کے لئے ھبہ کا جھوٹااقرار کرے تو مقرلہ کے لئے وہ حلال نہیں ہوگا کیونکہ اقرار دوسرے کی ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر بعد میں اپنی رضا سے اس کو قبضہ دے دے تو یہ نیا ھبہ ہوگا،یہی وجہ قابل اعتبار ہے بزازیہ حاشیہ طحطاوی میں ہے ماتن کا قول"مقرلہ کے لئے حلال نہیں"یعنی اس کو دیانۃ جبرا قبضہ کا حق نہیں ہے۔جیسے کوئی شخص گھر کے تمام سامان کو بیوی کے حق میں اقرار کرے حالانکہ بیوی کا کوئی حق خاوند کے ذمہ نہیں ہے،اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع