30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للموھب لہ اذا قبضہ کذلك شائعا لکن ملکا خبیثا واجب الرد قائما والضمان ھالکا وبہ افتی البعض، والحق انہ لایثبت بہا الملك اصلاما لم یسلم مقسوما ھوالصحیح المعتمد کما حققہ فی ردالمحتار و بہ افتی الجم الغفیر وھو ظاہر الروایۃ عن ائمتنا الثلثۃ فعلیہ التعویل۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
غیر منقسم کا ھبہ بعض کے نزدیك فاسدہ ہے لہذا اس پر قبضہ سے موہوب لہ کی ملکیت ثابت ہوجائیگی جبکہ اس نے اسی مشاعی حالت میں قبضہ کیا ہو تاہم یہ ملکیت خبیثہ ہوگی موجود رہنے کی صورت میں واجب الرد اور ہلاك ہونے کی صورت میں قابل ضمان ہوگی،اسی قول پر بعض نے فتوٰی دیا ہے جبکہ حق یہ ہے اس پر قبضہ سے ملکیت ہر گز ثابت نہ ہوگی جب تك اس کو تقسیم کرکے نہ دیا جائے یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تحقیق فرمائی اور اسی پر جم غفیر نے فتوٰی دیا ہے اور ہمارے تینوں ائمہ کرام سے یہی ظاہر الروایت ہے تو اسی پر اعتماد ہے۔(ت) |
اور اگر ایك ایك باغ ہر موہوب لہ کو جدا گانہ دیا گیا تھا تاہم اس قدر تقریر سوال سے ظاہر کہ جس طرح وہ باغ اس ھبہ سے پہلے قبض وتصرف عمرو میں تھے یونہی بعد ھبہ رہے اور آج تك عمرو نے اپنا ہاتھ ان پر سے نہ اٹھایا اور کسی دن بکروخالد کے قبضہ میں تسلیم نہ کیا اگر چہ رسید وپٹہ جات گاہے بکر وخالد بھی اپنی طرف سے تحریر فرمایا کرتے رہے ہوں کہ جب تك عمرو کا رفع ید اور قبضہ حضرات موہو لہما میں تسلیم ثابت نہ ہو ھبہ ہر گز تمام اورتملك موہوب لہما ثابت نہیں ہوسکتا۔
|
فی الہندیۃ ومنہا ان یکون الموہوب مقبوضا حتی لا یثبت الملك للموہوب لہ قبل القبض [1] انتھی ومثلہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ |
ہندیہ میں ہے ایك صورت ان میں سے یہ ہے کہ موہوب کسی کے قبضہ میں ہو تو اس پر موہوب لہ کی ملکیت نہ ہوگی جب تك قبضہ نہ کرلے اھ،اس کی مثل ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ (ت) |
مانا کہ کسی وقت حضرات موہوب لہما یا ان میں سے ایك کا وضع یہ ثابت بھی ہوجائے مگر عمرو کا رفع یدہرگز پایہ ثبوت تك نہیں پہنچتا،اور یہ شرط اول ہے۔
|
الاتری لو وھب داراوسلمہا حتی وضع الموھوب لہ یدہ علیھا |
آپ دیکھیں کہ اگر مکان ھبہ کیا اور سونپ بھی دیا اورموہوب لہ نے قبضہ میں لے لیا حالانکہ مکان ابھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع