دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

سے علیحدہ کراکے بکر اور خالد کانام اس خانہ میں قائم کرایا او روہ باغ دونوں کو عطا کئے اور عمرو نے جو یہ فعل اس کی غیبت میں ہوا تھا وقت اپنی حاضری کے بطوع ورغبت جائز رکھا اور کچھ تعرض نہ کیا مگر اس کے محاصل پر عمرو بدستور متصرف رہا اور تمتع ہر نوع کا ان باغات سے اٹھاتا رہا،اور بکر وخالد نے بربنا اس انبساط واتحاد کے کہ انہیں عمرو کے ساتھ تھا اس امر کا تعرض عمرو سے نہ کیا اور پٹہ جات ان باغات کے بکر اورخالد کے نام سے ہوتے رہے،گاہے بکر پٹہ کردیتاہے گا ہے خالد،گاہے دونوں کی طرف سے عمرو بقلم خود لکھ دیتا ہے،گاہے عمرو خود اپنے نام سے لکھ دیتاتھا،ان امور میں کبھی کوئی ایك دوسرے سے معترض نہ ہوتا،اور اسی طرح مختلف طور سے رسیدات پٹہ داروں کو بابت زرا قساط محاصل ملاکرتے تھے،اگر چہ زر اقساط صرف عمرو تحصیل کرتا اور اسی کے تصرف میں آتا،پھر بعد چند روز وقت بندوبست حال جو منجانب حکام ہوا بدستور خانہ ملکیت دفتر حاکم میں نام بکر وخالد قائم رہا یعنی انہیں دونوں کے نام سے زید مالك اصلی نے وہ بات دفتر بندوبست میں قائم کرائے اور اس امر کو عمرو نے بھی پھر بدستور جائز رکھا بلکہ خود تصدیق بھی دفتر میں اس امر کی کردی کہ بکر وخالد ان باغات کے مالك ہیں مگر پھر بھی محاصل باغات وہی عمرو بدستور قدیم پاتا رہا اور باغات اسی کے زیر تصرف رہے اور بکر وخالد نے اسی اتحاد ویکجہتی کے سبب سے کوئی اعتراض پھر بھی اس امر پر نہیں کیا اور نہ معترض ہوئے،اور گاہے گاہے محاصل ایك باغ کاخالد بھی لیتا رہا اور گاہ گاہ ایك باغ میں خود بھی زراعت بطور شیر کرلیتا تھا مگر بکر نے کبھی نہ محاصل پایا اور نہ کھبی زراعت بطور شیر کی بلکہ خود ہی کبھی قصد بھی نہ کیا اور اگر اس امر کا کبھی ذکر بھی آیا تو عمرو نے جواب دیا مالك تم ہو مگر تمھیں چنداں حاجت نہیں ہے اور میرا خرچ زائد ہے اور معاش کم،یہ محاصل میری ہی تصرف میں رہنے دو،بکر نے اسے یکجہتی کی بنا پر منظور رکھا پھر بعد چند مدت کے بکر نے محاصل نصفی ان باغات کا لینا چاہا اور عمرو سے تعرض کیا تو عمرو مانع آیا غرض کہ بعد گفتگوئے بسیار عمرو نے یہ استدعا کی کہ بکر نصف سے ثلث لے لے یعنی کل میں جو نصف اس کا ہے اس میں وہ ثلث پر اقتصار کرے اور باقی اپنے طور پر خالد کے لئے چھوڑ دے،بکر نے بغرض قطع نزاع اپنے حق سے اس قدر نقصان گوارا کیا اور عمرو سے کہا ہم دونوں یعنی بکر و خالد کہ مالك باغات ہیں آپس میں فیصلہ کرلیں گے،چنانچہ اس امر پر باہم رضامند ہوکر تصفیہ ہوگیا یعنی درمیان بکر وخالد کے یہ صلح باستدعائے عمرو واقع ہوئی کہ ایك ثلث بکر لے لے اور دو ثلث خالد فرزند عمرو کو چھوڑ دے،چنانچہ اس صلح کا اقرار نامہ بکر وخالد کی طرف سے بہ ثبت گواہی عمرو بنام ایك حکم ثالث کے تحریر ہوا اور ثالث نے بموجب اقرار نامہ فریقین فیصلہ لکھ دیا کہ ایك ثلث بکر لے لے اور دو ثلث خالد اور اسے بموجب سوالات داخل خارج حکام وقت کے یہاں گزر گئے اور بربنائے اس صلح کے فصل ربیع وخریف گزشتہ


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن