30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عاریۃ کی چیز ضائع ہونے سے سوال۔ |
۱۵۵ |
چندہ چندہ دہندوں کی ملک پر ہوتاہے اس کی مرضی کے مصرف میں خرچ ہونے کے بعد جو باقی بچا اس کو واپس کیاجائے یا اس کی اجازت سے کسی اور مصرف خیر میں خرچ ہو۔ |
۱۶۱ |
|
عاریۃ لینے والے کی کوتاہی سے چیز ضائع ہو توتاوان ہے،اور کوتاہی نہ ہو تو تاوان لینا حرام ہے اگرچہ معیر بخوشی دے۔ |
۱۵۵ |
متوفی نے چندہ کی رقم اپنے مصرف میں صرف کرڈالی اور اپنا روپیہ مسجد یا مدرسہ میں لگادیا تو جو اپنی رقم خرچ کی اس میں متبرع ہوا اور چندہ دہندوں کاتاوان دے۔ |
۱۶۱ |
|
عاریت لینے اور دینے والوں نے پیشگی شرط کرلی کہ ضیاع کی صورت میں تاوان ہوگا تب بھی بلا تقصیر ضیاع پرتاوان لیناناجائزہے۔ |
۱۵۵ |
عورت ماں باپ کے پاس شوہر کامال کب اما نت رکھ سکتی ہے اور کب نہیں۔ |
۱۶۳ |
|
امانت کی حفاظت اور تقصیر کی ایک صورت کا بیان،اور ہندیہ اور عقودالدریہ سے جزئیہ کی تصدیق۔ |
۱۵۷ |
عام طور سے شوہر عورت کو پہننے کے لئے جوزیور دیتاہے عاریۃ ہے،طلاق کی صورت میں اس کی واپسی کا شوہر حقدارہے، عورت ضائع کرے تو اس پر تاوان ہے۔ شوہر نے عورت کو کوئی چیز امانۃً دی،ماں باپ اس کے ساتھ رہتے ہوں اور قابل بھروسہ ہوں تو ان کے حفظ میں دے سکتی ہے ورنہ نہیں۔ |
۱۶۳ |
|
اجیر کے پاس سے چیز کے ضائع ہونے میں کب تاوان ہے اور کب نہیں۔ |
۱۵۷ |
مالک غاصب اور غاصب غاصب دونوں میں سے جس سے چاہے تاوان وصول کرے۔ |
۱۶۴ |
|
وکالت کے مال میں وکیل کے تصرفات سے سوال۔ |
۱۵۹ |
امین نے اپنی جیب میں امانت کی کوئی چیز رکھی اور کسی نے چرالی یہ امانت میں تقصیر نہیں،پھٹی جیب میں رکھی تو تقصیر ہے،ضائع ہونے پر تاوان دے۔ |
۱۶۴ |
|
موکل نے کسی پرتبرع اور احسان کے لئے مال دیا اور فاضل کی واپسی کی شرط لگادی توبقیہ مال کی واپسی کا موکل حقدار ہے،متبرع یا اس کے وارثوں کا بقیہ مال میں کوئی حق نہیں۔ |
۱۶۰ |
کافر کاقرض مسلمان پر تھا،دینے کی نیت تھی کہ قرض خواہ مرگیا اور اس کا کوئی وارث نہیں،اس زمانہ میں ایسا مال لاوارث مال ہے،اور فقراء ومساکین اس کے مستحق یا مساجد ومدارس میں صرف کیاجائے یاقرضدار فقیر ہو تو خود لے لے،کافر کی طرف سے اس کا تصدق حرام اور اس سے اجروثواب کی نیت کی توکفر۔ |
۱۶۵ |
|
اس قسم کے مال کا حکم چندہ کا ہے۔ |
۱۶۱ |
زید کو کسی نے امانۃً کچھ روپے دئیے،زید اپنی طرف سے ماہ بماہ کچھ پیسے تبرعاً دیتارہا،اس میں کوئی حرج نہیں،اور اس روپیہ کو اجازت یابغیر اجازت صرفہ میں لایا اور اس کی وجہ سے وہ ماہانہ دیا تو سود،اور تبرعاً دیا تو سود نہیں،مگر احتراز اولٰی،اور بے اجازت کی صورت میں غاصب بھی ہوگا۔ |
۱۶۵ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع