30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فربطہا فی دارصاحبھا الی معلقہا فضاعت قال ھو ضامن لہا فی القیاس ولکن استحسن ان الا اضمنہ، الی ھذا لفظ الحاکم و وجہ القیاس انہ لم یوجد الرد الی المالك وجہ الاستحسان انہ اتی بالتسلیم للمعتادبہ بین الناس لان الناس یستعیرون الدواب فیردونہا الی اصطبل المالک، والجیران یستعیرون الۃ البیوت ویردونہا الی دار صاحبہا ویسلمونہا الی من فیہ دون صاحب الدار فلو ردالی المالك کان المالك ایضا یحفظھابھذا المکان فقد اسقط عند المستعیر عــــــہ کلفۃ زائدۃ،فترك القیاس بالعاد ولہذا قال مشائخنا لوکانت العاریۃ عقد الجوھر لم یجز ان یردہا الا الی المعیر لان العادۃ لم تجربطرحہ فی الدار ولادفعہ الی الغلام [1]۔ |
کُھرلی پر باندھ دیا تو ضائع ہوگیا تو انہوں نے فرمایا قیاس میں توضامن ہوگا ولیکن میں استحسان کرتے ہوئے ضامن نہ بناؤں گا،یہاں تك حاکم کے الفاظ ہیں،قیاس کی وجہ یہ ہے کہ مالك کو جانور واپس نہیں پہنچا،اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی عادت کے اعتبارسے واپس کردیا ہے کینکہ لوگوں میں عادت ہے کہ جانوروں کو عاریۃ لے جاتے ہیں اور واپس مالك کے اصطبل میں چھوڑ جاتے ہں اور پڑوسی حضرات گھر کے آلات مانگ کر لے جاتے ہیں اور مالك کے گھر واپس چھوڑ جاتے ہیں اور مالك کاغیر جو بھی گھر میں ہو اس کو دے جاتے ہیں اور اگر مالك کو دیا جائے تو بھی اسی مکان میں حفاظت کے طورپر رکھتاہے تو گھر میں واپس کرنے پر مستعیر نے مالك کو مزید تکلیف سے بچایا،توحاکم شہیدنے قیاس کو عادت کی وجہ سے ترك کردیا،اس لئے ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اگر عاریہ جواہر کا ہارہو تو پھر مالك کے بغیر کسی اور کو واپسی جائز نہیں کیونکہ ایسی چیز کے متعلق گھر میں چھوڑ جانے یا غلام کو دی جانے کی عادت جاری نہیں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وذٰلك لان العبد صالح |
یہ اس لئے کہ غلام حفاظت کا اہل ہے |
|
عــــــہ: فی الاصل ھکذا اوظنہ عنہ |
(اصل میں اسی طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ "عنہ" ہے۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع