30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۲: خادم نعمت خاکی بوڑاہا ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کسی سے ہم نے کوئی چیز لی کہ لاؤ ہم بطور امانت رکھیں گے اور پھر بعد کو دے دیں گے اس میں سے کچھ غائب ہوگئی اور وہ شخص دینے والا طلب بھی نہیں کرتا ہے اب اس کے لئے قیامت میں نہ دینے پر جوابدہ ہوں گے یانہیں؟ ہاں اس شے پر اس کا پتہ نشان مرقوم ہے۔
الجواب:
اگر اس کی بے احتیاطی سے اس میں سے کچھ غائب ہوگیا تو اس پر اس کا تاوان لازم ہے بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگااور اگر اس نے پوری احتیاط کی اور وہ شے کُل یا بعض جاتی رہی تو اس پر الزام نہیں بلکہ اس کا تاوان لینا حرام ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: از شہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ ۲۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان سے دوسرے مسلمان کی شے گم ہوجائے تو اس چیز کے دام لینا چاہئے یانہیں؟
الجواب:
اگر وہ شیئ اس کے پاس امانت تھی اور اس نے پوری احتیاط کی اور اتفاقا گم ہوگئی تو اس کا تاوان لینا حرام ہے۔اور اس کی بے احتیاطی سے گم ہوئی تو جائز ہے،اور اگر امانت محض نہ تھی مثلا کوئی چیز خریدنی چاہی اور مول چکا کر اسے دکھانے کے لئےلے گیا اور وہ گم ہوگئی اس کے دام دے گاا گر چہ بے احتیاطی نہ کی ہو۔والله تعالٰی اعلم
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع