30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کفن مثلہ رجعت فی الترکۃ ولوا کثر لاترجع بشیئ قال رحمہ اﷲ تعالٰی ول قیل ترجع بقیمۃ کفن المثل لایبعد اھ [1] وفی وجیز الکردری لاترجع وان قیل ترجع بقدر کفن المثل فلہ وجہ [2]اھ،وفی الخلاصۃ لا ترجع بقدر کفن المثل ایضا فان قال قائل ترجع بقدر کفن المثل فلہ وجہ اھ [3]وفی وصایا التنویر و الدر لو زاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ وفی القیمۃ وقع الشراء لہ وحنیئذ ضمن مادفعہ من مال الیتیم والوالجیۃ [4]اھ ۔وفی العقود الدریۃ فی معین المفتی اذا زادفی عدد الکفن ضمن الزیادۃ فان زاد فی قیمۃ الکفن ضمن الکل کذا فی السراجیۃ
|
کفن بازاری قیمت کے مساوی تھا تو ترکہ سے اس کی قیمت واپس لے سکے گی،اور اگر بازاری قیمت سے زائد کیا تو کچھ بھی واپس نہ لے سکے گی،اور الله تعالی ان پر حم فرمائے انہوں نے فرمایا اگر کہا جائے کہ مثلی قیمت میں رجوع کرسکتی ہے تو بعید نہ ہوگا،اھ،اور وجیز الکردری میں ہے کہ زائد قیمت کی صورت میں رجوع نہیں کرسکتا اور اگر یہ کہا جائے کہ مثلی قیمت تك رجوع کرسکتاہے تو اس کی وجہ ہوسکتی ہے اھ،اور خلاصہ میں ہے کہ مثلی کفن تك بھی رجوع نہیں کرسکتی اور اگر کوئی یہ کہے کہ مثلی کفن تك رجوع کرسکتی ہے تو اس کی وجہ ہے اھ، اور تنویر الابصار اور درمختارکے وصایا کے بیان میں ہے کہ اگر وصی نے کفن کی تعداد میں زیادتی کی تو زائد کا ضامن ہوگا اور یہ عدد مثلی کفن کی قیمت میں خریدہوا تو خرید ا س کی ہوگی اور اس وقت اس کی خرید میں یتیم کا جتنا مال خرچ ہو اس کا ضامن ہوگا،والوالجیہ اھ۔اور عقود الدریہ میں ہے کہ معین المفتی میں فرمایا اگر کفن کے عدد میں زیادتی کی ہو تو صرف زیادتی کا ضامن ہوگا اور اگر قیمت زائد دی ہو تو کل قیمت کا ضامن ہوگا،ایسے ہی سراجیہ میں ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع