30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیہ زوجتہ او ولدہ او والدیہ اذالم یکن متہما یخاف منہ علی الودیعۃ ھکذا فی فتاوٰی قاضیخاں [1]۔ |
بشرطیکہ ان کے پاس امانت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ فتاوٰی قاضیخاں میں یوں ہے۔(ت) |
لہذا عورت کا یہ فعل کہ اشرفیاں اپنی ماں کو دے آنا بتاتی ہے مسلم نہ ہوگا۔عورت پر اشرفیوں کا تاوان ہے اگر معلوم ہو کہ واقعی اپنی ماں کو دے آئی تھی اور ماں نے اس کے باپ کو دیں اس نے مقدمہ میں صرف کیں،گو زید کو اختیار ہے کہ عورت یا اس کی ماں یا اس کے باپ جس سے چاہے اس کا تاوان لے۔
|
لانہما کغاصب الغاصب فللمالك ان یضمن من شاء، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ وہ دونوں غاصب کے غاصب کی طرح ہیں تو مالك کو اختیار ہے جس کو چاہے ضامن بنائے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۳۶: مرسلہ عبدالرحیم وابوالفضل محمد مظہر از ضلع ہگلی وانمباڑی ۶ شعبان ۱۳۳۳ھ روز شنبہ
ایك شخص نے زید کو دو سورپے دئے کہ اس کا سونا خرید کر زیور بنوادینا،اس نے سونا خرید کر جیب میں رکھا،سنار کو دینے جارہا تھا کہ جیب سے نکل گیا یا کسی نے جیب کترلی تویہ نقصان کس کا ہوا۔
الجواب:
وہ شخص امین ہے جبکہ اس نے حفظ میں قصور نہ کیا اور جاتارہا اس پر تاوان نہیں۔ہاں اگر اس نے غفلت کی مثلا جیب پھٹی ہوئی تھی اس میں سے نکل جانے کا احتمال تھا اس نے ڈال لیا اور وہ نکل گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے لانہ متعدوالمتعدی ضامن (کیونکہ یہ تعدی کرنیوالا ہوا اور تعدی کرنیوالا ضامن ہوتاہے)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷:از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور مسئولہ مولوی
عبدالکریم صاحب روز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کافر مرگیا اور کوئی وارث قریب و بعید نہ چھوڑا اور مسلمان اس کا مدیون قرض ادا
کرنا چاہتا ہے اب وہ کس کو دے کیونکہ اگرا س کی طرف سے صدقہ کرتاہے تو اس کو آخرت
میں ملنے کی امید نہیں اور اگر اس کے مذھب کے مطابق مندر میں اس کی طرف سے صرف کردے
یا مندر کے پجاری کو دے دے تو کفر کی اعانت ہوتی ہے۔تو اب اس قرض سے کیونکر سبکدوش
ہو؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع