30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید ناراض ہوا کہ کیوں بے اجازت اسے دیں اور ماں باپ کے پاس دوسرے کی امانت رکھ دینے میں اکثر علماء کا اختلاف ہے،
فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی خلاصہ وغیرہما میں اس کا جواز اس شرط پر ہے کہ وہ اور یہ ایك ہی ساتھ رہتے ہوں ورنہ نہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
|
الابوان کالاجنبی حتی یشترط کونہما فی عیالہ کذا فی الخلاصۃ [1]۔ |
امانت کی حفاظت کے معاملہ میں والدین اجنبی کے حکم میں ہیں جب تك کہ وہ اس کی عیال میں نہ ہوں عیال میں ہونا شرط ہے۔یوں خلاصہ میں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وتفسیر من فی عیالہ فی ھذا الحکم ان یساکن معہ سواء کان فی نفقتہ اولا کذا فی الفتاوٰی الصغرٰی و ھکذا فی فتاوی قاضی خاں [2]۔ |
اس حکم میں عیال کی تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ اس کے ساتھ سکونت پذیر ہوں اس کے نفقہ میں شامل ہوں یا نہ ہوں فتاوٰی صغرٰی اور فتاوٰی قاضیخان میں ایسے ہی ہے۔(ت) |
اور علامہ مقدسی نے فتوٰی اس پر نقل کیا کہ اس کا ساتھ رہنا شرط نہیں۔ ردالمحتارمیں ہے:
|
وفیہ ای فی المقدسی لایشترط فی الابوین کونہما فی عیالہ وبہ یفتٰی [3]۔ |
اس میں یعنی مقدسی میں ہے والدین کے معاملہ میں ان کا اس کی عیال میں ہونا شرط نہیں ہے۔اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
مگر حقیقت امر یہ ہے کہ یہ امین جس کے پاس امانت رکھی اس کا اس مال کی نسبت قابل اطمینان ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے فقط اس امین کے ذاتی مال پر امین ہونا کافی نہیں کہ یہ امر باختلاف مالك مال بدلتا ہے مثلا اکثر زنان زمانہ اپنی دختر کے مال میں ضرور قابل وثوق ہیں مگر اس سے داماد کے مال پر اطمینان ہونا لازم نہیں آتا بلکہ بارہا ماں بیٹی دونوں اس کے تلف میں ہم زبان ہوجاتی ہیں۔ہندیہ میں ہے:
|
للمودع ان یدفع الودیعۃ الی من کان فی عیالہ کان المدفوع |
مودع کو جائز ہے کہ امانت اپنے عیال کو سپر د کردے اور عیال میں سے بیوی یا اولاد یا والدین ہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع