دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

بتاریخ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ بھائی سید اشفاق علی صاحب موصوف کا انتقال ہوگیا،مرحوم کی تجہیز وتکفین و تدفین میں بھی جو کچھ صرف ہوا وہ بھی رقم مجتمعہ مذکور سے ہوا اس کے بعد حبہ حبہ اخراجات سید اشفاق علی صاحب مرحوم از یوم روانگی ہندوستان تایوم تدفین سید اشفاق علی صاحب مجرا ہوکر پاس حاجی ذاکر علی صاحب حسب تحریرو بیان حاجی صاحب موصوف مبلغ چار سو پچیس روپے دو آنے باقی بچے وہ بھائی سید لیاقت علی صاحب نے واسطے دینے سید حسین مذکور کے حاجی صاحب موصوف سے طلب کئے،حاجی ذاکر علی صاحب نے فرمایا کہ یہ روپیہ مجھ کو سوائے سید حسین کسی کو نہیں دینا چاہئے وہ مجھ سے کہہ گئے ہیں سوائے میرے کسی کونہ دیجئے گا میں ذاکر علی سوائے سید حسین مذکور کے کسی کونہیں دوں گا،اس گفتگو میں کچھ طول ہوا کہ مولوی عزیز بخش صاحب بدایونی جنہوں نے بذریعہ ہجرت سکونت متصل مکہ معظمہ میں کرلی ہے فرمایا جھگڑا ہر گز مت کرو میں بھی بدایون کا رہنے والا ہوں اور اب یہاں رہتاہوں بدایونی کی سخت ذلت ہوگی،نزاع تو صرف اس بات پر ہے کہ روپیہ سید حسین نے جمع کیا اور ان کو ملنا چاہئے سو آپ سید لیاقت علی صاحب اطمینان فرمائے،ابھی حاجی ذاکر علی صاحب کا مال فروخت نہیں ہوا جس وقت حاجی صاحب ممدوح کا مال فروخت ہوگیا میں عزیز بخش ذمہ دار ہوتاہوں اور آپ سید لیاقت علی صاحب سے وعدہ کرتاہوں کہ یہ مبلغ چار سو پچیس روپے دوآنے سید حسین مذکور کے نام سے دہلی والوں کی دکان پر جو یہاں ہے جمع کرادوں گا،ہندوستان میں یہ روپیہ سید حسین مذکور کو مل جائے گا،چنانچہ مطمئن ہوکر بھائی سید لیاقت علی صاحب مکہ معظمہ سے بشوق دیدار روضہ مبارك حضور سرور کائنات علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات روانہ مدینہ منورہ ہوگئے اور جو تحریر حضور والا کے پاس مرسلہ حاجی ذاکر علی صاحب موصوف معرفت حاجی عبدالرزاق صاحب آئی اس میں تحریر تھا کہ سید حسین مذکو رکے جمع کیے ہوئے روپے میں سے بعد تمامی اخراجات سید اشفاق علی صاحب ذمہ حاجی ذاکر علی کے پاس(اماصہ عہ/۲)بچا ہے اور جمع ہے تحریر ہذا کی صداقت میں حاجی لیاقت علی شہادت دیتاہوں کہ میں نے اپنا نام شروع تحریر میں بھی لکھ دیا ہے فقط راقم سید حسین قادری،دستخط گواہ بیان تحریر ہذا سید لیاقت علی ۱۰ شعبان ۱۳۳۰ھ

الجواب:

اگر بیان مذکور واقعی ہے تو اس روپیہ کا مستحق سوائے سید حسین کے کوئی نہیں ہے،وارثان سید اشفاق علی کا اس میں کچھ حق نہیں،حاجی ذاکر علی امین پر فرض ہے کہ بقیہ چارسو پچیس روپیہ دو آنہ تمام وکمال سید حسین کو ادا کرے،ظاہر ہے کہ صورت مذکور ہ میں یہ روپیہ سید حسین نے سید اشفاق علی کو قرض نہ دیا کہ بحال انتقال بقیہ کو واپسی کو کہا تھا۔قرض ہوتا تو بہر حال تمام وکمال واپس ہونا لازم ہوتا


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن