دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

پہرہ والا پھر تا تھا انہوں نے دیکھا کہ دکان کا قفل کھلا ہوا ہے،اس نے چوکیدار سے دریافت کیا کہ اس دکان کا مالك کون ہے اور اس کا گھر کہاں پر ہے۔ان کا گھر دور ہونے کی وجہ سے چوکیدار نے ملازم کا گھر بتادیا پہرہ والا نے ملازم سے کہا کہ تمھاری دکان کا قفل کھلا ہے،اس نے کہا کہ میں تو دکان بند کرکے آیا تھا۔غرض کہ وہ ملازم پہرہ والا کے ساتھ آیا اور پہرہ والا نے پوچھا کہ کچھ مال وغیرہ تو نہیں گیا۔پھر اس نے دکان بند کرنا چاہا،پہرہ والا نے منع کیا کہ جب تك کوتوالی میں یہ احوال نہ لکھا لو بند نہ کرو،اس نے کرتوالی میں بھی لکھوا دیا کہ دکان بے نقصان کھلا ہوا پایا اورصبح انہوں نے کہا کہ روپیہ جاتا رہا اور اکثر دکان کا ایسا اتفاق ہوا کہ دکان بند رہا روپیہ جاتا رہا اور اسی روز کی صبح کو مالك دکان نے دو۲ ملازموں کو موقوف کیا،ایك ان میں روپیہ لے جانے والا تھا اور دوسرا اور کوئی تھا،بعد اس کے ہُنڈی کے روپیہ والے کو نہ ملازم نے اطلاع دی نہ مالك نے،کوئی بیس روز کے عرصہ کے بعد یہ عذر پیش کیا کہ روپیہ جاتا رہا اب اس صورت پر ازروئے شرع شریف کے روپیہ اس سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وہ روپیہ ملازم پر عائد ہوتاہے اس سے تاوان لیا جاسکتاہے کہ جب اس نے اس شب صراحۃً کہا کہ کچھ نہیں گیا تو یہ اقرار ہوا کہ زرامانت موجود ہے پھر بعد کو یہ دعوٰی کہ اس وقت روپیہ جا چکا تھا اگلے قول کا صریح خلاف ہے جو ہرگز مسموع نہ ہوگا۔اور اگر اس کے بعد جانے کا دعوٰی کرے جب بھی اس پر تاوان لازم ہے کہ جب زر امانت اس وقت تك موجود تھا رات کے وقت ایسی حالت میں کہ بازار بند ہے،کھلی دکان چھوڑ کر کوتوالی کو چلاجانا حفاظت میں تقصیر ہے،ہاں اگر اس کا یہ بیان ہو کہ اس وقت تك روپیہ نہ گیا تھا اوروہ جب کوتوالی لکھوانے کے لئے گیا تو دکان کا مالك یا او رکوئی محافظ جو اس کا اورملازم کا اجنبی نہ ہو بیٹھا رہا حفاظت کرتا رہا پھر اس نے دکان بند کردی اور اس کے بعد صبح تك میں کسی وقت جاتا رہا تو تاوان نہ آتا۔

فی الہندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا طلب الودیعۃ فقال اطلبہا غدا ثم قال فی الغدضاعت فانہ یسئل ان قال ضاعت قبل قولہ اطلبہا غدا یضمن وان قال ضاعت بعدہ

ہندیہ میں فصول العمادیۃ کے حوالہ سے ہے جب مالك نے اپنی امانت طلب کی تو رکھنے والے نے کہا کل لینا،پھر کل کو کہا وہ ضائع ہوگئی ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ کب وہ ضائع ہوگئی ہے،اگر کہے میرے جواب کا کل لے جانا سے پہلے ضائع ہوئی تو ضامن

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن