30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایجتمعان کما فی البزازیۃ[1] من نوع فی ھلاك مالہا فلیحرر وبقیۃ الاحکام واضحۃ دائرۃ فی الکتب کالخیریۃ والہندیۃ وغیرھما وذکرت غیر مرۃ فی فتاوٰنا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
پر جمع نہیں ہو سکتے جیسا کہ بزازیہ میں مضاربت کے مال کی ہلاکت کی نوعیت کے بیان میں ہے،اس کی تحقیق ہونی چاہئے، اور باقی احکام واضح ہیں اور کتب فقہ خیریہ،ہندیہ وغیرہما میں مذکور ہیں اور متعدد بار میں نے ان کو اپنے فتاوٰی میں ذکر کیاہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۷: از بازار جام تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مسئولہ محمد سعید صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شرکت کرنا اس طرح سے روزگار میں کہ زید نے عمرو کو سو روپے دئے اورکہا کہ اس سے جو چاہو روزگار،جو چاہو کر،یا فلاں،لیکن مجھ کو دس۱۰ روپے تم فیصدی دینا،یا یوں کہا کہ جو تیری طبیعت میں آئے وہ دینا یا آنہ روپیہ کا نفع تعین کردیا،آیاعمرو کو بیشی ہو کہ کمی،خالد کہتاہے کہ تعین کرنا سود ہے۔فقط
الجواب:
یہ کہ جو طیبعت میں آئے دینا،ناجائز ہے کہ تعین نہ ہوا اور یہ کہ دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینا،اگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپے اس کو تجارت کے لئے دئے ہیں ان پر فیصدی دس یا فی روپیہ ایك آنہ مانگتا ہے توحرام قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہو اس میں سے سواں یا سولھواں حصہ دینا،تو یہ حلال ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
_____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع