30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وما اصاب حصۃ العصیر فہو بین المضارب وبین الشریك لکن ہذا اذا کان رب المال قال لہ اعمل فیہ برأیك فان لم یکن قال ذٰلك وفعل المضارب ذٰلك بغیر اذن الشریك فالفلایج تکون للمضارب وھو ضامن مثل الدقیق لرب المال ومثل حصۃ الشریك من العصیر للشریك فان کان رب المال اذن لہ فی ذٰلك والشریك لم یاذن فالفلایج تکون للمضاربۃ والمضارب ضامن حصۃ شریکہ من العصیر وان کان الشریك اذن لہ بذٰلك ورب المال لم یاذن لہ فالفلایج تکون بینہ وبین الشریك وھو ضامن لرب المال مثل الدقیق [1] اھ فلا ادری مافیہا من قولہ المضارب اذا سافر بمال المضاربۃ ومال نفسہ توزع النفقۃ علی المالین سواء خلط المالین اولم یخلط او قال لہ رب المال اعمل فیہ برأیك اولم یقل لہ ذٰلك و السفر و مادون السفر فی ذلك سواء اذاکان لایبیت فی اھلہ [2] اھ لانہ ھذا حکم المضاربۃ واذاخلط بغیر اذن ضمن، و الضمان والمضاربۃ |
ہوگا جو حصہ جو س کا ہے وہ مضارب اور اس کے شریك کا ہوگا، لیکن یہ اس صورت میں ہے جب رب المال نے مضارب کو "جو چاہے کر"کہا ہو اور اگر اس نے یہ نہ کہا ہو اور مضارب نے یہ کارروائی اس کی اجازت کے بغیر کی ہو تو اس صورت میں پیڑے مضارب کے ہوں گے اور وہ آٹے کی مثل رب المال کا ضامن ہوگا،اور جوس کے حصہ کا شریك کو ضمان دے گا اور اگر رب المال کی اجازت تھی اور شریك کی اجازت نہ تھی تو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ کے برابر شریك کو ضمان دے گا،اور اجازت کا معاملہ بالعکس ہو تو پیڑے مضارب اور اس کے شریك کے ہوں گے اور آٹے برابر رب المال کو ضمان دیگا اھ،اورخانیہ میں جو یہ ہےکہ مضارب جب مضاربۃ اور ذاتی مال کے ہمراہ سفرکرےگا تو نفقہ دونوں مالوں پر منقسم ہوگاخواہ دونوں مالوں کوخلط کیایا نہ کیا،رب المال نے اس کو"جو چاہے کر" کہا ہو یا نہ کہا ہو، حد سفر ہویاکم ہو جب وہ رات کو واپس گھر نہ لوٹ سکتا ہو، الخ۔یہ میری سمجھ سے بالاہے کیونکہ یہ حکم تو مضاربت کا ہے حالانکہ اگر رب المال کی اجازت کے بغیر خلط کیا ہو تو ضامن ہوتاہے جبکہ ضمان اور مضاربت اپنے حال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع