30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشریك ینظر الی قیمۃ الدقیق قبل ان تتخذ منہ الفؤلا یج والی قیمۃ العصیر فما اصاب حصۃ الدقیق فھو علی المضاربۃ |
سے بنے تو پیڑے بنانے سے قبل آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا اور یوں جوس کی قمیت کا بھی اندازہ کیا جائے تو جتنا حصہ آٹے کا بنے وہ مضاربہ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الفوقانیۃ وذکر فیہا مانصہ اعطاہ الفا وقال اعمل برأیك ثم اشتری المضارب مع شریکہ عصیرا علی الشرکۃ فاتخذ المضارب من دقیق المضاربۃ و العصیرا لمشترك فلا تج باذن الشریك فالفلا تج علی المضاربۃ وضمن المضارب لشریکہ قیمۃ العصیر ما یخصہ [1] الخ وکتبت علیہ مانصہ اقول ھذا سبق قلم وانما ھو حکم مااذا فعل باذن رب المال دون الشریك کما سیذکرہ بقولہ وان یاذن رب المال لاالشریك فالفلاتج علی المضاربۃ ویضمن حصۃ العصیر لشریکہ [2]الخ اما حکم ھٰذا فما ذکر فی الخانیۃ انہ ینظر الی قیمۃ الدقیق الخ ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
ساتھ ہے اور انہوں نے جو ذکر کیا عبارت یہ ہے مالك نے مضارب کو ہزار دے کر کہا"جوچاہے کر"پھر مضارب نے اپنے شریك سے مل کر جوس خریدا شراکت کے طور پر،تو مضارب نے مضاربہ کا آٹا اور شراکت کا جوس ملا کر شریك کی اجازت سے پیڑے بنائے،تو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور مضارب جوس کی قیمت کے برابر شریك کو ضمان دے گا الخ،او رمیں نے اس پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں یہ قلم کی سبقت ہے حالانکہ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب مضارب نے یہ کارروائی رب المال کی اجازت اور شریك کی اجازت کے بغیر کی ہو جیسا کہ وہ خود اس کو قریب ہی ذکر کریں گے اپنے اس قول میں،کہ اگر رب المال نے اجازت دی اور شریك نے نہ دی تو پیڑے مضاربہ میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ میں برابر شریك کو ضمان دے گا الخ،لیکن اس مذکور صورت کاحکم وہ ہے جو خانیہ نے ذکر کیا ہے کہ آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا الخ ۱۲ منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع