30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاخر علی الثانی لم یضمن الاول وضمن الاخر،ھذا اذا خلط احد مالی زید بالاخر فکیف اذا خلط بمال نفسہ وفی البحر لیس لہ ان یخلط مال المضاربۃ بمالہ و لامال غیرہ الا ان یقول لہ اعمل برأیك [1] اھ، وقال بعد ثلثۃ اوراق انما لایضمن لان رب المال قال لہ اعمل برأیك فیملك الخلط بخلاف مااذا لم یقل فانہ لایکون شریکا بل یضمن کالغاصب [2] اھ،وفی الہدایۃ مایفعلہ المضارب انواع،نوع لایمبلکہ بمطلق العقد ویمبلکہ اذا قال لہ اعمل برأیك مثل خلط مال المضاربۃ بمالہ اومال غیرہ[3] اھ (باختصار) و فیہا انتظم قولہ اعمل برأیك الخلط فلا یضمنہ[4] اھ (باختصار)وفی العنایۃ اعمل برأیك یتناول الخلط فصار شریکًا
|
پہلی وجہ پر اور دوسرا دوسری وجہ پر تھا تو پہلے میں ضامن نہ ہوگا،دوسرے میں ضامن ہوگا،یہ تمام صورتیں زید کے دونوں مالوں کو آپس میں خلط کرنے میں ہیں تو مضارب کے اپنے ذاتی مال کو اس میں خلط کرنے سے کیونکر نہ ہوں،بحر میں ہے مضارب کو جائز نہیں کہ مضاربۃ کے مال کو اپنے مال یا غیر کے مال سے خلط کرے الایہ کہ اس کو"جوچاہے کر"کہہ کر عام اجازت دی گئی ہو اھ،اور تین ورق کے بعد فرمایا کہ ضامن نہ ہوگا کیونکہ رب المال نے اسے کہہ کر رکھا ہے کہ"جو چاہے کر"تو وہ خلط کامالك ہوگا بخلاف جب یہ نہ کہا تو پھر خلط سے شریك نہ بنے گا بلکہ غاصب کی طرح ضامن ہوگا،اھ،ہدایہ میں ہے کہ مضارب کی کارروائی مختلف اقسام پر ہےبعض وہ جن کاعقد کے مطلق ہونے سےمالك بن جاناہے اور بعض وہ کہ"جو چاہے کر"کہنے سے ان کا مالك بن جاتاہے مثلا مضاربت کے مال کو اپنے یاغیر کے مال میں خلط کرنا اھ،اور ہدایہ میں ہی ہے کہ مالك کا"جو چاہے کر"کہنا خلط کو شامل ہے لہذا ضامن نہ ہوگا اھ(ملخصا)اور عنایہ میں ہے "جو چاہے کر"خلط کو شامل ہے تو خلط کرنے پر شریك بن جائیگا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع