30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی التاتارخانیۃ اھ [1] ثم ذکر عنہا مااذا دفع الی رجل الفا بالنصف ثم الفا اخری کذلك فخلط المضارب المالین [2]وفصل صورھا واحکامہا وھی ستۃ عشروجہا قد بسطہا فی الھندیۃ عن المحیط باوضح لما عــــــہ نا۔ اقول:واستخرجت لہا ضابطۃ ھی ان الخلط اذا وقع علی مال لہ فیہ اذن ولو عرفا او ربح فیہ خاصۃ اولا ربح فی شیئ من مالی المضاربۃ لم یضمنہ والا ضمن تمت الضابطۃ ای اذا وقع علی مالیس لہ فیہ اذن ولاربح یختص بہ ولا عدم ربح یعمہما بان ربح فی المال الاخر خاصۃ اوفیہما معا فانہ یضمنہ فان کان کلا المالین علی الوجہ الاول لم یضمن شیئا منہما او علی الثانی ضمنہما معا او احدھما علی الاول و
|
تاتارخانیہ میں ہے اھ پھر علامہ شامی نے تاتارخانیہ سے نقل کرتے ہوئے کہاکہ ایك شخص نے کسی کو نصف نفع کی شرط پر ہزار بطور مضاربت دیا پھر ایك اور ہزار اسی شر ط پر دیا تو مضارب نے ان دونوں مالو ں کو خلط کردیا،یہاں انہوں نے صورتوں اور ان کے احکام کی تفصیل بیان کی اور یہ سولہ وجوہ ہیں جن کو ہندیہ نے محیط کے حوالے سے مبسوط طوپر بیان کیا اور ہمارے بیان کردہ سے زیادہ واضح ہے۔میں کہتاہوں میں نے اس کے لئے ایك ضابطہ بنایا ہے وہ یہ کہ اگر خلط اس مال میں کیا جس میں یہ اجازت تھی اگر چہ عرفا ہو یا خاص طورپر اس مال میں ہی نفع ہوا یا مضاربت کے دونوں مالوں میں کوئی نفع نہ ہو تو ضامن نہ ہوگا ورنہ ضامن ہوگا،ضابطہ مکمل ہوا ور نہ ضامن ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ خلط ایسے مال میں کیا جس میں یہ اجازت نہ تھی اور نہ ہی اس مال سے مختص نفع تھا اور نہ ہی دونوں مالوں کو شامل نفع ہو بلکہ یوں ہو کہ دوسرے مال سے مختص نفع ہو یا دونوں کو شامل نفع ہو توضامن ہوگا،ا ور اگر دونوں مال پہلی وجہ والے یعنی عدم ضمان والی صورت پرتھے تو دونوں کا کوئی ضمان نہیں یا دونوں دوسری وجہ پر تھے تو دونوں کا ضامن ہوگا،یا ایك مال |
|
عــــــہ:فی الاصل ھکذا لعلہ مما بیناہ۔ |
اصل میں اسی طرح ہے غالبا یہ لفظ مما بیناہ ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع