30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تری اوکان الخلط ھناك معروفا بین التجار اما اذا عرٰی عن ھذہ الوجود ضمن مال زید تماما لانہ استھبلکہ بالخلط بغیر اذن ولاعرف فعاد غاصبا بعد ماکان مضاربا فعلیہ وضیعۃ ولہ ربحہ ولایطہر لہ ربح مال المضاربۃ عندالامام ومحمد رضی اﷲ تعالٰی عنہما فیتصدق بہ الا اذا اختلف الجنس فان الربح لایظہر الا عند اتحادہ فی الدرالمختار اذا سافر ولو یومًا(المرادان لایمکنہ المبیت فی منزلہ فان امکن ان یعود الیہ فی لیلۃ فہو کالمصر لانفقۃ لہ بحر اھ شامی)فطعامہ وشرابہ،و کسوتہ ورکوبہ ولوبکراء وکل مایحتاجہ فی عادۃ التجار بالمعروف فی مالہا لو صحیحۃ لا فاسدۃ لانہ اجیر فلا نفقۃ لہ وان عمل فی المصر سواء ولد فیہ اواتخذہ دار افنفقتہ فی مالہ کدوائہ،اما اذا نوی الا قامۃ بمصر ولم یتخذہ دارافلہ |
مال مضاربت کے مال میں خلط نہ کیاہو یا اس نے خلط کردیا اور زید نے اسے کہہ رکھا تھا کہ اپنی رائے سے جو چاہو کرو یا وہاں تجار میں اس طرح خلط کرنا معروف ہے ورنہ اس کے بغیر خلط سے عمرو زیدکے تمام مال کا ضامن ہوگا کیونکہ اجازت او رعرف کے بغیر خلط کرکے اس نے مضاربت کے مال کو ہلاك کردیا اور مضارب کی بجائے وہ غاصب بن گیا اب نفع ونقصان اس کا ہے او رمضاربت سے حاصل شدہ نفع اس کے لئے،امام ابوحنیفہ اور امام محمد رضی الله تعالٰی عنہما کے نزدیك مال مضاربت کا نفع اس کے لئے پاك نہ ہوگا او رصدقہ کرے گا ہاں اگر نفع اور راس المال کی جنس مختلف تو پاك ہوگا،کیونکہ نفع اتحاد وجنس میں ظاہر ہوتاہے۔درمختار میں ہے جب مضارب سفر خواہ ایك دن کا کرے(اس سے مراد یہ ہے کہ اتنا سفر ہو کہ واپس آکر رات گزارنا ممکن نہ ہو اگر رات گھر آنا ممکن ہو تو یہ اپنے شہر کی طرح ہوگا لہذا وہ نفقہ کا مستحق نہ ہوگا بحر،اھ شامی)تو کھانا،پینا،لباس سواری،اگر کرایہ کی ہو اور تجار میں معروف تمام اخراجات مضاربت پر ہوں گے بشرطیکہ مضاربت صحیح ہوگا فاسد نہ ہو کیونکہ فاسد ہونے کی صورت میں مضارب اجیربن جاتاہے اس کا نفقہ نہیں اور اگر اس نے اپنے وطن جس میں پیدا ہوا یا جس کو اس نے گھر بنالیا وہاں کے اخراجات اس کے اپنے مال سے ہوں گے جیسا کہ علاج معالجہ ذاتی ہوتاہے،اگر سفر کے دوران کسی شہر میں اقامت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع