30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نفسہ لاشیئ منہ علی صاحبہ وکذا ما انفق علی نفسہ وھو مقیم بمصر المضاربۃ ای البلد الذی اخذ فیہ المال مضاربۃ او بوطنہ سواء کان مولدہ اواتخذہ دارا،وکذا ماانفق فی الخروج الی موضع یغدوالیہ ثم یروح ویبیت باھلہ وکذا جمیع النفقات علی الاطلاق ان کانت المضاربۃ فاسدۃ فانہ لیس فیہا للمضارب الااجر مثل عملہ نعم اذا کانت صحیحۃ و خرج المضارب للتجارۃ الی حیث لایؤویہ اللیل بمنزلہ وان قفل فنفقتہ بالمعروف طعامہ وشرابہ و لباسہ وفراشہ ورکوبہ وخادمہ ونفقۃ خادمہ کل ذلك فی مال المضاربۃ حتی یؤب لاالزائد علی المعروف فانہ مضمون علیہ غیر ان عمرا اضاف الیہ شیئا من مال نفسہ فینقسم النفقات المعروفۃ علی کلا المالین بحسبہما فما اصاب مال المضاربۃ فذٰلك وما اصاب مال عمرو حسب علیہ من مال نفسہ وکل ماذکرنا انہ یحسب علیہ ان کفاہ مالہ فبہا وما فضل وتعدی الی مال المضاربۃ یضمنہ و ھودین علیہ یوخذ منہ حیث لاربح،ھذا کلہ اذا لم یخلط اوخلط و کان زید قال لہ ان اعمل فیہ کما |
کچھ بھی دوسرے ساتھی پر نہ ہوگا اور یونہی جو کچھ اس نے مضاربہ والے شہر یعنی جس شہر میں اس نے مضاربہ کامال وصول کیا،یا اپنے وطن خواہ اس کا مولد ہو یا وہاں گھر بنالیا ہو، میں اپنی ذات پر خرچ کیا او ریونہی تمام اخراجات علی الاطلاق اگر مضاربہ فاسدہ ہو کیونکہ فساد کی صورت میں مضارب مثلی اجر کے بغیر کسی چیز کا مستحق نہیں ہوتا،ہاں جب مضاربہ صحیح ہو اور مضارب نے تجارت کی غرض سے ایسی جگہ سفر کیا جہاں سے وہ صبح وشام واپس اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا تو اس کا معروف نفقہ بطور خوراك ولباس،بستر،سواری، خادم،خادم کا نفقہ یہ سب مضاربت کے مال پر ہوگا حتی کہ واپس گھر پہنچ جائے،معروف سے زائد نفقہ نہ ہو کیونکہ زائد ہو تو اس پر اس کا ضمان لازم ہوگا،علاوہ ازیں عمرو نے اپنا مال چونکہ تجارت میں شامل کرلیا تو اب تمام معروف اخراجات دونوں مالوں پر علی الحساب منقسم ہوں گے جو مضاربت کے حصہ میں آیا وہ مضاربت پر اور اس کے اپنے مال کے حصہ آئے وہ اس پر ہوگا جو ہم نے ذکر کیا کہ حساب سے اخراجات اس کے مال پر،اگر اس کا مال ان اخراجات کو کفایت کرتاہے فبہا ورنہ اخراجات زائد ہونے کی صورت میں جو مضاربت پر پڑے ہیں ان کا وہ ضامن ہوگا اور اس کے ذمہ وہ دین پر ہوں گے اور اس سے وصول کئے جائیں گے جبکہ نفع کامال نہ ہو،یہ تمام بیان ا س صورت میں ہے جبکہ اس نے اپنا ذاتی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع