30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسا معاہدہ داخل سود وناجائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
ایسا معاہدہ بلاشبہ ناجائز ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶: از پاٹن شمال گجرات مرسلہ عبدالقادر محمد فضل صاحب ۱۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
|
ماقولکم نفع الانام بکم فی زید وعمرو اتفقا علی ان یتجرا بان یکون راس المال من زید وان یکون عمرو مضاربا وشرع عمرو فی العمل فانتخب التجارۃ بالربح اولا عقب الحساب بینہا اقتسما علی موجب شرطہما ثم اضاف ما نابہ من الربح علی مال زید واخذ فی اسباب التصرف وسار ینفق من مال الشرکۃ علی نفسہ ماکلہ ومشربہ وکسوتہ ویھب ویتصدق ویزور النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویحج کل ذٰلك بغیر اذن شریکہ ولہ یظھر الربح بل لحق راس المال خسارۃ فہل یضمن عمرو ما انفق فی الوجوہ المذکورۃ حیث کان ذٰلك بغیر اذن الشریك یکون الضمان فی مالہ خاصۃ ام یکون دینا اذا بقی،افتونا ماجورین۔ |
آپ کا کیا ارشاد ہے(الله تعالٰی آپ کے ذریعہ مخلوق کو نفع دے)اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو نے تجارت کرنے پر بایں طور اتفاق کیا کہ اصل رقم زید کی ہوگی اور عمرو مضارب ہوگا، اور عمرو نے کام شروع کردیا تو اس نے تجارت میں نفع کمایا حساب کے بعد طے شدہ شرط کے مطابق دونوں نے نفع کوتسلیم کرلیا،پھر عمرو نے اپنے حاصل شدہ نفع کو زید کے مال (راس المال)میں شامل کردیا اور کاروباری ذرائع میں مشغول ہوگیا او رمشترکہ مال سے اپنے مصارف کھانے،پینے، لباس،ہبہ،صدقہ اور حج وزیارت پر صرف کیا اور یہ تمام اخراجات اپنے شریك کی اجازت کے بغیر کئے جبکہ نفع نہ ہو ا بلکہ راس المال میں خسارہ ہوگیا،تو کیامذکورہ مصارف پر اپنے شریك کی اجازت کے بغیر خرچ شدہ مال کا عمرو ضامن ہوگا اور یہ ضمان خاص عمرو کے اپنے مال سے ادا ہوگا یا بقایا ہونے کی صورت میں اس کے ذمہ دین ہوگا،اجر پاتے ہوئے ہمیں فتوٰی دیں۔(ت) |
الجواب:
|
کل ماانفق فی الہبات والصدقات والحج والزیارۃ الشریفۃ یحسب علیہ من مال |
عمرو نے ہبہ،صدقہ،حج وزیارت پر جو کچھ صرف کیا وہ عمرو کے ذاتی مال سے شمار ہوگا اس میں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع