30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رجع فی مال المضاربۃ بذٰلك ویبدأ براس المال ثم یثنی بالنفقۃ ثم یثلث بالربح وان ھلك مال المضاربۃ لم یرجع علی رب المال بشیئ کذا فی الذخیرۃ [1]۔ |
مضاربت کے مال سے وصول کرے گا یہ مجرائی اولا راس المال سے پھر ثانیا نفقہ سے اور پھر ثالثا نفع سے ہوگی اور اگر مضاربت کا تمام مال ہلاك ہوجائے تو مضارب کچھ بھی رب المال سے وصول نہ کرسکے گا،ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت) |
(۴)رقم خاص جو سفر خرچ کے لئے اسی عقد مضاربت کی بناء پر دی وہ مضاربت ہی میں شامل ہے،ہاں اگر جدا رقم دے کر تصریح کردی کہ میں تیرا سفر خرچ تبرعا اپنے پاس سے دیتاہوں،جو کچھ راس المال پر بڑھے گا وہ تمام وکمال نفع سمجھا جائے گا اور تو اس سے جدا پائے گا تو یہ اس کا احسان ہے اسے اختیار ہے پھر اگروہ منع کردے تو اس پر جبر نہیں مَا عَلَی اَلْمُحْسِنِیْنَ منْ سَبِیْلٍ۔
(۵)مقید کو ہر وقت مطلق کرسکتاہے کہ منع رب المال ہی کے حق کے لئے تھا،صاحب حق کو اپنے حق سے درگزر کرنے کا اختیار ہے،
|
یاحق یاصاحب کل حق بغناك وفقرنا تجاوز عمالك من الحقوق علینا و بکرمك تحمل عناما لعبید فانك اکرم الاکرمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی اکرم الخلق محمد واٰلہ الکرماء اجمعین اٰمین و الحمد ﷲ رب العالمین،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یاذات حق،اے ہر حق کے مالک،اپنے غنا اور ہمارے فقرکے وسیلہ سے ہمارے ذمہ جو بھی تیرے حقوق ہیں معاف فرما، اوراپنے کرم کے ذریعہ اپنے بندوں کے حقوق کو ہم سے ختم فرما،کیونکہ تو تمام کریموں سے بڑا کریم ہے اور الله تعالٰی کی رحمتیں مخلوق کے بڑے کریم محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر اور ان کی کرم والی سب آل پر،آمین،الحمد لله رب العلمین، والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵: از الہ آباد محلہ حمام حکیم سید قنبر علی صاحب ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے خالد کو جو کہ سوداگر ہے پانچ سو روپے بدیں معاہدہ قرض دیا کہ اس پانسو روپے سے خالد جو کاروبار تجارت مناسب جانے کرے اور جو منافعہ تجارت ہو اس مں سے صرف ایك آنہ فی روپیہ زید کو دے باقی کل رقم منافع خالد اپنے حق المحنت میں لے اور جو نقصان تجارت میں ہو اس میں بعد فہمید وحساب وکتاب زید صرف فی روپیہ کے حساب سے اصل میں مجرا دے گا،باقی کل تاوان خالد ادا کرے گا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع