30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاذاخرج منہا مسافرا فلہ النفقۃ حتی یاتی البصرۃ لان خروجہ لاجل المال ولاینفق من المال مادام بالبصرۃ لان البصرۃ وطن اصلی لہ فکانت اقامتہ فیہ لاجل الوطن لا لاجل المال فاذا خرج من البصرۃ لہ وان ینفق ایضا مااقام بالکوفۃ حتی یعود الی البصرۃ لان وطنہ بالکوفۃ کان وطن اقامۃ یبطل بالسفر فاذا عاد الیہاولیس لہ بہا وطن کانت اقامتہ فیہا لاجل المال [1]۔ |
تو جب وہاں سے سفر کرتے ہوئے نکلے گا تو بصرہ پہنچنے تك اس کا نفقہ ہوگا کیونکہ اس کا اب کوفہ سے نکلنا مضارب کے طوپر ہے اور پھر جب تك بصرہ میں رہے گا وہ خرچہ نہ پائے گا کیونکہ بصرہ اس کا وطن اصلی ہے تویہاں اس کی اقامت وطن کی وجہ سے ہے مضاربت کے لئے نہیں۔توا ب اگر وہ بصرہ سے نکل کر کوفہ آیا تو واپس بصرہ پہنچنے تك نفقہ اس کا حق ہے کیونکہ پہلے کوفہ میں اس کا قیام وطن اقامت کے طور پر تھا تو وہاں سے سفر کرنے پر وہ وطن باطل ہوگیا تو اب دوبارہ اس کا کوفہ آنا مضاربت کے لئے کیونکہ کوفہ اس کا وطن نہیں تو وہاں اس کا قیام صرف مال کے لئے ہے۔(ت) |
(۲)مجمل رقم دینا بے معنی ہے مضاربت میں راس المال کا معلوم ہونا شرط ہے ورنہ عقد فاسد وگناہ ہوگا۔عالمگیری میں ہے:
|
اما شرائطہا الصحیحۃ فمنہا ان یکون راس المال معلوما عند العقد حتی لایقعان فی المنازعۃ فی الثانی [2]الخ۔ |
مضاربت کے صحیح شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ عقد کے وقت راس المال کا معلوم ہونا ہے تاکہ بعد میں دونوں کا اختلاف نہ ہو الخ(ت) |
(۳)مضارب اگر اپنے پاس سے خرچ کرے گا جب بھی مال مضاربت سے مجرا پائے گا مگر رب المال سے مجرا لینے کا حق نہیں رکھتا یہاں تك کہ اگر مال مضاربت تلف ہوجائے تو اس کا خرچ بھی گیا۔رب المال سے اس کا مطالبہ نہ کرسکے گا۔عالمگیری میں ہے:
|
ان انفق المضارب من مال نفسہ اواستدان علی المضاربۃ |
اگر مضارب نے اپنے ذاتی مال سے نفقہ لیا یا اس نے مضاربت کے معاملہ میں قرض لیا تو وہ اسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع