30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے ذمہ ہوگا یا نہیں قال یہ خرچ مال پر ڈالا جائے گا جو اسے مجراد ے کر بچا وہ نفع سمجھا جائیگا اقول اس کی دو صورتیں اس وقت خیال میں آتی ہیں ایك یہ کہ رب المال نے ایك مجمل رقم مضارب کو دی تھی اس نے اس میں سے اکثر کامال خریدا اور قلیل اپنے خرچ کے واسطے رکھ لی،جب یہ خرچ ہوگئی مال کی آمدنی میں سے صرف میں لایا،دوسرے یہ کہ رب المال نے ایك رقم معین مال خریدنے کے واسطے دی،مضارب نے اس سب کا مال خریداا ور سفر خرچ وغیرہ اپنے گھر سے کیا۔ان دو صورتوں میں تو بیشك مضارب مصارف مجرا کرکے نفع کی تقسیم کرے۔تیسری صورت یہ کہ رب المال نے ایك رقم خاص واسطے خریداموال کے معین کردی اور ایك رقم خاص واسطے نفع وسفر خرچ وغیرہ کے دے دی تو اب یہ مصارف مال مضاربت پر کیوں پڑیں گے۔بلکہ اس رقم صرف میں سے بعد خرچ کے جتنا بچ رہے گا وہ واپس دینا ہوگا ہاں اگر رقم سب صرف میں آگئی اور کچھ زائد خرچ کرنے کی ضرورت ہوئی تو اب جو کچھ خرچ ہو وہ مال مضاربت پرپڑے روپیہ بدستور رہنے کی صور ت میں جیسے اخیتار مطلق کو مقید کرسکتاہے یوں ہی مقید کو مطلق بھی کرسکتاہے یانہیں؟ افیدونا رحمکم اﷲ تعالٰی۔
الجواب:
(۱)جب تك اپنے وطن میں ہوگا نفقہ نہ پائے گا اگر چہ خرید وفروخت وکار مضاربت کرتا رہے اگر چہ رب المال دوسری جگہ کا ساکن ہو اور وہیں اس سے عقد مضاربت کیا ہو،اسے سفرخرچ دیا جاتاہے اوریہ جب تك وطن میں ہے مسافر نہیں۔اسی طرح اگر اس کے غیر وطن میں رب المال نے اسے روپیہ دیا یہ وہاں بطور مسافرت گیا ہوا تھا تو فی الحال جب تك اس شہر میں ہے نفقہ نہ پائے گا اگر چہ کار مضاربت انجام دے کہ اس بار اس کا یہ سفر مضاربت کے لیے نہ تھا بلکہ قبل عقد مضاربت تھا،ہاں جب وہاں سے چلا جائے گا اور پھر بغرض مضاربت وہاں آئے گا تو سفر خرچ پائے گا کہ اب یہ سفر بغرض مضاربت ہے بخلاف وطن مضارب کہ اگر جائے مضاربت سے سفر ہی کرکے خاص کار مضاربت ہی کے لئے اپنے وطن کو آئے جب تك وطن میں رہے گا نفقہ نہ ملے گا کہ وطن میں آدمی کسی طرح آئے مسافر نہیں رہ سکتا۔بدائع ومحیط و فتاوٰی ظہیریہ وبحرالرائق وردالمحتارمیں ہے:
|
لو اخذ مالا بالکوفۃ وھومن اھل البصرۃ وکان قدم الکوفۃ مسافرا فلا نفقۃ لہ فی المال مادام فی الکوفۃ |
اگر مضارب نے مالك سے کوفہ میں مال وصول کیا جبکہ مضارب بصرہ کارہنے والا ہے وہ کوفہ میں بطور مسافر آیا تھا تو جب تك وہ کوفہ میں قیام پذیر رہے گا اس وقت تك مال مضاربت پر اس کا نفقہ نہ آئے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع