30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر بقدر معروف کی قید لگی ہوئی ہے روٹی سالن معروف تھا تو پلاؤ زردہ کی اجازت نہیں۔ٹوپی کی عادت ہے عمامہ نہیں لے سکتا ایك آنہ کی ٹوپی معتاد ہے دو آنہ کی نہ لے گا۔فصل کے میوے،برف کی قلفیاں،مٹھائی کے دونے،سوڈے کی بوتلیں،یہ اپنی جیب خاص سے کھائے پئے،مال مضاربت پر حوائج ڈالتے ہیں یہ حوائج نہیں۔اسی طرح کنگھی،سُرمہ،پھلیل،دوامال مضاربت سے نہ کرے گا۔عالمگیری میں ہے:
|
النفقۃ ھی مایصرف الی الحاجۃ الراتبۃ وھی الطعام والشراب والکسوۃ وفراش ینام علیہ والرکوب و علف دابتہ،محیط السرخسی،وغسل ثیابہ والدھن فی موضع یحتاج الیہ واجرۃ الحمام والحلاق وانما یطلق فی جمیع ذٰلك بالمعروف حتی یضمن الفضل ان جاوزہ ھکذا فی الکافی،وروی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی انہ سئل عن اللحم فقال کما کان یاکل، ذخیرۃ،واما الدواء والحجامۃ والکحل ونحو ذٰلك فی مالہ خاصۃ دون مال المضاربۃ،ولو استاجرا جیرا یخدمہ فی سفرہ احتسب بذٰلك علی المضاربۃ، مبسوط [1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نفقہ وہ عام حاجت کے مصارف ہیں اور وہ کھانا،پینا،لباس، بستر زیر استعمال،سواری،جانور کی خوراك ہے،محیط سرخسی، اور کپڑوں کی دھلائی،ضرورت کے مقام پر تیل،حجام کی اُجرت ان تمام امور کی معروف اجازت ہوگی حتی کہ اگر معروف مقدار سے زائد خرچ کیا تو ضامن ہوگا کافی میں یوں ہے،اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالٰی سے مروی ہے کہ ان سے خوراك میں گوشت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں جو کھانے کی اسے عادت ہو،ذخیرہ،لیکن ذاتی دوائی،سینگی لگانے اور سُرمہ وغیرہ جیسی چیزیں مضارب کے اپنے ذاتی مال سے ہونگی مضاربت سے نہ ہونگی،اور اگر سفر کے دوران خدمت کے لئے اجیر کرایہ پر رکھا تو یہ مضاربت کے حساب سے ہوگا،مبسوط،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۴: از موضع سابق
جواب کی بعض عبارات کی تشریح مطلوب ہے:
(۱)جبکہ مضارب کو اختیار دے دیا کہ جہاں چاہے کام کر،اور اس نے شہرہی میں فروخت کرنا شروع کیا اور مضارب فقیر ہے یعنی اپنے پاس سے خرچ نہیں کرسکتا تو اس صورت میں اس کا نفقہ رب المال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع