30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یملك المضارب فی المطلقۃ التی لم تقید بمکان او زمان اونوع(ای اوشخص ش)البیع بنقد ونسیئۃ متعارفۃ و الشراء والتوکیل بہما والسفر برا و بحرا لا تجاوز بلدا وسلعۃ اووقف اوشخص عینہ المالك لان المضاربۃ تقبل التقیید المفید ولو بعد العقد مالم یصرالمال عرضا لانہ حینئذ لایملك عزلہ فلا یملك تخصیصہ فان فعل ضمن بالمخالفۃ [1] اھ ملتقطا۔ |
مضاربہ مطلقہ جو کسی مکان،زمان،قسم(یا شخص ش)سے مقید نہ ہو تو اس میں مضارب کو ہر طرح بیع نقد،ادھار معروف اور خریدنے اور بیع وشراء میں وکیل بنانے اور بری و بحری سفر کرنے کا اختیار ہوگا اور اگر مالك نے علاقہ، سامان، وقف یا شخص کو معین کردیا تو مضارب اس پابندی سے تجاوز نہیں کرسکتا،کیونکہ مال کے سامان تجارت بننے سے قبل مضاربت مفید پابندی کے قابل ہے اگرچہ یہ پابندی عقد کے بعدلگائی ہو مگر مال جب سامان تجارت میں بدل جائے تو اس وقت پابندی موثر نہ ہوگی کیونکہ اس موقعہ پر مالك مضارب کو معزول کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تو کسی تخصیص وپابندی کا مالك بھی نہ ہوگا۔اگر مالك نے قیود کا پابند کیا ہو تو مضارب مخالفت کرنے پر مال کا ضامن ہوگا اھ ملتقطا (ت) |
رب المال اگر مضارب کی رائے پر چھوڑ دے کہ جو مناسب جانے کرے تو ضرور اس کے بعض اختیارات وسیع ہوجائیں گے مثلا مطلق مضاربت میں اسے یہ اختیار نہ ہوتا کہ دوسرے کو اپنی طرف سے یہ مال مضاربت دے یا راس المال اپنے روپے میں ملالے اور جب رب المال نے یہ کہا کہ تیری رائے پر چھوڑا تو ان امور کا بھی مختار ہوجائیگا ہاں کسی کو روپیہ قرض دینا یا کسی سے قرض لینا اب بھی جائز نہ ہوگا جب کہ مالك صراحۃً اس کا اذن نہ دے۔درمختار میں ہے:
|
لایملك المضاربۃ والشرکۃ والخلط بمال نفسہ الا باذن او اِعْمَل برایك اذ الشیئ لایتضمن مثلہ ولا الاقراض والا ستدانۃ وان قیل لہ اِعْمَل برایك لانہما لیسا من صنیع التجار فلم یدخلا فی التعمیم مالم ینص المالك علیہما |
مضارب مالك کی اجازت کے بغیر آگے مضاربہ،شرکت اور اپنے مال کے ساتھ خلط کرنے کا مالك نہ بنے گا۔اجازت یا اپنی رائے سے عمل کر،کہہ دینے سے مالك بن سکے گا کیونکہ کوئی چیزاپنی مثل کو متضمن نہیں ہوتی اور اپنی رائے سے عمل کر۔کہہ دینے کے باوجود مضارب قرض دینے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع