30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں۔ت)درمختار میں ہے:
|
شرطہا کون الربح بینہا شائعا فلو عین قدرا فسدت و کون نصیب کل منہما معلوما عند العقد [1]۔ |
مفاربت میں نفع غیر معین مقدار ہونا شرط ہے اور اگر کوئی معین مقدار طے ہوئی تو مضاربت فاسد ہوگی اور عقد کے وقت دونوں کا حصہ معلوم بھی شرط ہے۔(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
دفع الٰی غیرہ الف درہم مضاربۃ علی مثل ما شرط فلان لفلان من الربح فان عَلِمَ رب المال والمضارب بما شرط فلان لفلان من الربح تجوز المضاربۃ وان لم یعلما لاتجوز وکذا اذا علم احدھما وجہل الاخر ھٰکذا فی المحیط،ولو دفع الیہ مضاربۃ علی ان یعطی المضارب رب المال ماشاء من الربح فھذہ مضاربۃ فاسدۃ کذا فی المبسوط [2]۔ |
کسی نے دوسرے کو ہزار درہم مضاربت کے طورپر دیا کہ جیسے جیسے فلاں فلاں نے آپس میں نفع شرط کیا اس شرط کے مطابق یہ عقد ہے تو اگر رب المال اور مضارب دونوں کو ان کی شرط معلوم تھی تو یہ مضاربت جائز ہوگی اور ان کو فلاں فلاں کی شرط معلوم نہ تھی تو جائز نہ ہوگی اور یونہی اگر ایك کو وہ شرط معلوم تھی اور دوسرے کو معلوم نہ تھی۔محیط میں یوں ہے اور اگر دوسرے کو مضاربت کے لئے اس شرط پر مال دیا کہ مضارب جو چاہے نفع میں سے رب المال کو دے تو یہ مضاربت فاسدہوگی جیسا کہ مبسوط میں ہے۔(ت) |
مضارب جہاں مناسب جانے مال لے جاسکتاہے اس میں اذن رب المال کی حاجت نہیں جبکہ رب المال اسے مقید نہ کردے۔ہاں مقید کردے گا کہ اسی شہر یا خاص فلاں شہر ہی میں خرید وفروخت کرویا صرف فلاں موسم میں یا خاص فلاں شخص یا اشخاص سے،یا خاص فلاں مال کی تجارت کرو تو مضارب اس کے اتباع کا پابند ہوجائیگا مخالفت کرے گا تو تاوان دے گا اگرچہ رب المال نے عقد مضاربت کے بعد یہ تقییدات کردی ہو۔جب تك روپیہ بدستور باقی ہے ابھی مضارب نے اس سے مال نہ خریدا۔خریداری کے بعد پھر رب المال مطلق ومقید نہیں کرسکتا۔درمختارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع